تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 117
سُوْرَۃُ الْحَجِّ مَدَنِیَّۃٌ سورۃ حج۔یہ سورۃ مدنی ہے وَھِیَ مَعَ البَسْمَلَۃِ تِسْعٌ وَّ سَبْعُوْنَ اٰیَۃً وَّ عَشَرَۃُ رُکُوْعَاتٍ اور بسم اللہ سمیت اس کی۷۹آیات ہیں۔اور دس۱۰ رکوع ہیں ۱ ؎ ۱ ؎ یہ سورۃ علماء تاریخ قرآن کے نزدیک مکّی اور مدنی ہے۔یعنی کچھ حصہ مکّی اور کچھ مدنی۔ابن ؔ عباس ؓ اور مجاہدؔ کے نزدیک آیت نمبر۲۰،۲۱،۲۲یعنی تین آیتیں مدنی ہیں۔ابنؔ عباسؓ سے ایک اور روایت بھی ہے کہ تیئیسویں آیت بھی مدنی ہے گویا ان کے نزدیک چار آیتیں مدنی ہیں۔ضحاکؔ کا خیال ہے کہ ساری سورۃ ہی مدنی ہے۔(تفسیر قرطبی) ترتیب قریب کی ترتیب کے لحاظ سے سورۂ انبیاء کے مضمون سے اس کا سلسلہ ملتا ہے۔اُس سورۃ میں اصل مضمون ہی یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے دنیا میں عذاب آتا رہتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر انسان صحیح راستہ اختیار کرے تو وہ نجات پا سکتا ہے۔پھر بتایا تھا کہ تیری قوم پر بھی عذاب آئے گا۔چنانچہ سورۂ انبیاء کی آخری آیت ہی یہ تھی کہ قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے میرے رب ! تُو حق کے مطابق فیصلہ کردے اور ہمارا ربّ تو رحمٰن ہے اور (اے کافرو!) جو تم باتیں کرتے ہو اُن کے خلاف اس سے مدد مانگی جاتی ہے۔گویا اس آیت میں منکرین کے لئے عذاب کی دُعا سکھائی گئی تھی۔اب سورۃ الحج میں اس دُعا کا جواب دیا اور پہلی آیت ہی یہ رکھی کہيٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌیعنی اے لوگو! تم اپنے رب کا تقویٰ کرو۔کیونکہ فیصلہ والا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حکم سے اب دعا میں مشغول ہو گئے ہیں تم اگر بچنا چاہتے ہو تو اپنے نفس کی اصلاح کرکے اس عذاب سے بچنے کی دعا میں لگ جائو۔سورتوں کی لمبی ترتیب کے لحاظ سے اس سورۃ میں مریم ؔ۔طٰہ اور انبیاء ؔ کے مضمون کو تکمیل تک پہنچایا گیاہے۔سورۃ مریم میں اصول مسیحیت بتا کر اُن کا ردّ کیا گیا تھا کیونکہ مسیحیت کی تردید کئے بغیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی