تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 116
وَالْکُفْرُگُمراہی۔گناہ اور کفر اَلْفَضِیْحَۃُ۔رسو ائی۔اَلْعَذَابُ۔عذاب۔اَلْعِبْرَۃُ عبرت۔اَلْمَالُ وَالْاَوْلَادُ۔مال اور اولاد۔اِخْتِلَافُ النَّاسِ فِی الْاٰرَاءِ وَمَا یَقَعُ بَیْنَھُمْ مِنَ الْقِتَالِ لوگوںکی آپس کی آرا ء مخالفت اور ان کے درمیا ن لڑائی اور جھگڑا کا پیدا ہونا بھی فتنہ کہلاتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔خداظاہر بات کوبھی جانتاہے اور چھپی بات کوبھی اور میں نہیںجانتا کہ جوکلام تمہا ر ے سامنے پیش کیاجارہا ہے اس کا انکار تم کو ایک لمبی تباہی میں مبتلاکردےگا یاکچھ عرصہ کے لئے تم ترقیات حاصل کرلو گے۔قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا (اس وحی کے آنے پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا اے میرے رب۔تو حق کے مطابق فیصلہ کردے اور تَصِفُوْنَؒ۰۰۱۱۳ ہمارا رب تو رحمٰن ہے اور( اے کافرو) جو تم باتیںکرتے ہو انکے خلاف اسی سے مددمانگی جاتی ہے۔تفسیر۔اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طر ف سے اپنی امت کے متعلق ایک دعا سکھائی گئی ہے۔اور کہا گیا ہے کہ اے محمدؐ رسول اللہ تو دعا کر کہ خدایا جس وقت مسلمانوں پر تنزل کا زمانہ آئے اور یہودی پھرارض مقدسہ میں آجائیںتوگو میری امت کے لوگ اس وقت کمزور ہوںگے مگر اصل حکومت تو میری ہی ہوگی جو تیری طرف سے قیامت تک کے لئے خاتم ا لنبیین مقرر ہوا ہوں۔پس مسلمانوں کی شکست میری شکست ہوگی اور میں تیرے حضور میں محبوب ہوں اور یہودی تیرے حضور میں مغضوب ہیں۔پس میں تجھ سے دعا کرتاہوں کہ ایسے وقت میں میر الحاظ کرکے میری قوم اور یہودیوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور میری قوم کو یہودیوں پر فتح دے تاکہ پھرمیری قوم عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ میں شامل ہوکر فلسطین پر قابض ہوجائے۔اور یہ ظاہر ہے کہ جو دعا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے وہ ضرور پوری ہوکر رہے گی۔کیونکہ خدا تعالیٰ تمسخر نہیں کیا کرتا۔پس مسلمانوں کو ایک طرف تو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ قرآن کریم کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے ان کو تنبیہہ کردی ہے اور دوسری طرف انہیںاپنے انجام سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کی دوبارہ کامیابی کے لئے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے دعا کرواد ی ہے جو پوری ہوکر رہے گی۔