تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 115

اور وہ اور وعدہ ہے۔وہ وعدہ عذاب کا ہے اور یہ وعدہ انعام کاہے۔اور انعام کاقائم مقام عذاب کا وعدہ نہیں ہوسکتا۔قُلْ اِنَّمَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ تو کہہ دے کہ مجھ پر تو صرف یہ وحی ہوتی ہے کہ تمہاراخدا ایک ہے۔پس کیا تم اس بات کو مانو گے (کہ نہیں)۔اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۰۰۱۰۹فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ پس اگر وہ پیٹھ پھیر لیں تو تو ان سے کہہ دے کہ میں نے تم (میں سے مومن و کافر )کو برابر خبر دے دی ہے۔وَ اِنْ اَدْرِيْۤ اَقَرِيْبٌ اَمْ بَعِيْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ۰۰۱۱۰ او ر میں نہیں جانتا کہ وہ امر جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھاقریب ہے یابعید۔حلّ لُغَات۔اٰذَنْتُکُمْ۔اٰذَنْتُکُمْ اٰذَنَ سے متکلم کا صیغہ ہے اور اٰذَنَہُ الْاَمْرَ کے معنے ہوتےہیں اَعْلَمَہُ بِہٖ۔اس کو کسی امر کے متعلق بتایا۔(اقرب) پس اٰذَنْتُکُمْ کے معنے ہوں گے میںنے تم کو اطلاع دےدی ہے بتا دیا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔میری وحی تو توحید پرمشتمل ہے باقی سب چیزیں اس کی تابع ہیں پس اگر تم اس آواز کو سن لو۔تو تم پرفضل ہوجائےگا۔اوراگر اس ا ٓواز سے منہ پھیر لو۔تو اچھی طرح سن لو کہ تمہاری تباہی کے وقت کے متعلق مجھے معلوم نہیںکہ جلد آنے والا ہے یا بدیر لیکن وہ آکر رہے گا۔اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ يَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ۰۰۱۱۱ خدا (تعالیٰ) ظاہر بات کو بھی جانتا ہے۔اور جوتم چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے۔اور میں نہیںجانتا کہ وہ (بات جو اوپر وَ اِنْ اَدْرِيْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ۰۰۱۱۲ بیان ہوئی ہے )شاید تمہارے لئے ایک آزمائش ہے اور (اس سے) ایک عرصہ تک تمہیں فائدہ پہنچانا مدنظر ہے (یاہمیشہ ہمیش کے لئے )۔حلّ لغات۔فِتْنَةٌ۔فِتْنَۃٌکے معنے ہیں اَلْخِبْرَۃُ وَالْاِ بْتِلَاءُآزمائش اور امتحان۔اَلضَّلَالُ وَالْاِثْمُ