تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 114

دیکھو حدیثو ں میںبھی یہ پیشگوئی آتی ہے۔حدیثوں میںیہ ذکر ہے کہ فلسطین کے علاقہ میں اسلامی لشکر آئے گا اور یہودی اس سے بھاگ کر پتھروں کے پیچھے چھپ جائیںگے اور جب کوئی مسلمان سپاہی کسی پتھر کے پاس سے گذرے گا تو وہ پتھر کہے گا کہ اے مسلمان خداکے سپاہی میرے پیچھے ایک یہودی کافر چھپا ہوا ہے اس کو مار۔(بخاری کتاب الجہاد والسیر باب قتال الیہود)۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تھی اس وقت کسی یہودی کافلسطین میںنام ونشان بھی نہیں تھا۔پس اس حدیث سے صاف پتہ لگتا ہےکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئی فرماتے ہیںکہ ایک وقت میں یہودی اس ملک پرقابض ہوںگےمگر پھر خدا مسلمانوں کو غلبہ دے گا اور اسلامی لشکر اس ملک میںداخل ہوںگے اور یہودیوںکو چن چن کے چٹانوں کے پیچھے ماریںگے۔پس عارضی میں اس لئے کہتا ہوں کہ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَکاحکم موجود ہے مستقل طورپر تو فلسطین عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ کے ہاتھ میں رہنی ہے۔سو خدا تعالیٰ کے عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگ لازماًاس ملک میں جائیںگے۔نہ امریکہ کے ایٹم بم کچھ کرسکتے ہیںنہ ایچ بم کچھ کرسکتے ہیں۔نہ روس کی مدد کچھ کر سکتی ہے۔یہ خدا کی تقدیر ہے یہ تو ہوکر رہنی ہے چاہے دنیا کتنا زور لگالے۔اس جگہ پرایک اعتراض کیا جاسکتا ہے اور وہ اعتراض یہ ہے کہ یہاں وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ فرمایا ہے اور تم کہتے ہو کہ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ سے مراد آخری زمانہ ہے۔مگر سورئہ بنی اسرائیل کی پہلی آیات میںبھی تو ایک وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ کا ذکر ہے جس میںرومیوں کے حملہ کا ذکر ہے تو کیوں نہ یہ سمجھا جائے کہ یہ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا (بنی اسرائیل:۱۰۵) رومیوں کے حملہ کےمتعلق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وہ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ نہیں ہوسکتا اس لئے کہ اس صورت میںوَعْدُ الْاٰخِرَۃِ کو عذاب کا قائم مقام قرار دیا ہے اور اس صورت میں وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ کو انعام کاقائم مقام قرار دیاہے۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ عذاب کی پیشگوئی کو انعام سمجھ لیا جائے۔اس جگہ توفرمایا ہے کہ جب دوسری دفعہ والاو عدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو تم کو تباہ کردیاجائےگا اوراس آیت میں ذکر ہے کہ جب وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ آئے گا تو پھر تم کو لاکے اس ملک میںبسادیا جائے گا اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ اور ہے اوروہ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ اور ہے۔وہاں وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ سے مراد ہے موسوی سلسلہ کی پیشگوئی کی آخری کڑی اوریہاں وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ سے مردایہ ہے کہ آخری زمانہ یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی پیش گوئی۔پس یہ الفاظ گو ملتے ہیں لیکن دونوں کی عبارت صاف بتارہی ہے کہ یہ اور وعدہ ہے