تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 97
فرماتا ہے کہ ہم نے ان کی دعاسن لی اور ان کو غم سے نجات دی اور مومنوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔حضرت یونس علیہ السلام کی اس دعا سے قبولیت دعا کاایک گر معلوم ہوتا ہے جسے ہمیشہ اپنے مدنظر رکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ دعا سے پہلے انسان کوچاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر لیا کرے اور پھراپنامدعا اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا کرے۔چنانچہ دیکھ لوحضرت یونس علیہ السلام نے پہلے یہی کہاکہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ یعنی اے میرے رب! تو کامل تعریف کامستحق ہے اور تیرے سوا اور کوئی معبود قابل پرستش نہیںاور پھرتو ہر قسم کے نقائص اور عیوب سے منزہ ہے۔اس تسبیح و تحمیدکے بعد انہوںنے اپنامدعا پیش کیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنی مصیبت میں مدد چاہی یہی طریق ہر مومن کو اختیار کرناچاہیے اور دعا میںتسبیح وتحمید کو مقدم سمجھنا چاہیے دنیا میںبھی جب کسی کے دروازہ پر کوئی سائل آتا ہے تو وہ پہلے مالک مکان کی تعریف کرتا ہے اور اس کی خوبیوں کے گیت گاتاہے اورپھر اپنا مدعا پیش کرتا ہے او رسمجھتا ہے کہ اب میرا آنارائیگاں نہیں جائےگا۔یہی طریق عمل دعا میںاختیار کرناچاہیے اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت وجبروت کااقرار کرنے اور اس کی تسبیح و تحمید کرنے کے بعد حرف مدعازبان پرلانا چاہیے۔وَ زَكَرِيَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَيْرُ اور زکریاکو بھی( یاد کر) جب اس نے اپنے رب کوپکارا تھااور کہاتھا کہ اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ الْوٰرِثِيْنَۚۖ۰۰۹۰فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ٞ وَ وَهَبْنَا لَهٗ يَحْيٰى وَ اَصْلَحْنَا اور تو وارث ہونےوالوں میں سے سب سے بہتر ہے اور ہم نے اس کی دعا کو سنااور اس کو یحیٰ عطا کیا اور لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَ اس کی بیوی کو اس کی خاطر تندرست کردیا۔وہ سب لوگ نیکیوں میں جلد ی کرتے تھے اور ہم کو يَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِيْنَ۰۰۹۱ محبت اور خوف سے پکارتے تھے۔اور ہماری خاطر عجز کی زندگی بسر کرتے تھے۔حلّ لُغَات۔رَھَبًا۔رَھِبَ الرّجُلُ رَھْبًا کے معنے ہیںخَافَ وہ ڈرا (اقرب) پس رَھَبٌ کے معنے ہوںگے ڈراو رخوف۔