تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 98
تفسیر۔پھر زکریا ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ بھی اسی جماعت میں شامل تھے۔اور فرماتا ہے کہ زکریا ؑ کو بھی یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے دعا کی اور کہا کہ اے میرے رب! مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے تب ہم نے اس کی دعاسنی اور اس کی بیوی کی اصلاح کی اور اس کو یحیٰ عطا کیا۔(دیکھ لو۔اصولی طور پر اس سارے گھرانے کے حالات حضرت ایوب ؑ سے ملتے ہیں ) پھر وجہ بیان کرتا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کی تنگیوں کو کیوں بدل دیا اس لئے کہ یہ گروہ نیکی کرنے میںجلدی کرتا تھااور ہمارے انعام کی رغبت سے اور ہماری سزا کے خوف سے ہمیں پکارتارہتا تھا اور ہمیشہ ہمارے حضور عاجزی کیاکرتا تھا۔وَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ او ر اس عورت کو بھی (یادکر) جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پس ہم نے اس پراپنا کچھ کلام نازل کیا۔اور اس کو جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰيَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ۰۰۹۲اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اور اس کے بیٹے کو دنیاکے لئے ایک نشان بنایا۔یہ تمہاری امت (یعنی تمہارے ابدی دشمن ) ایک ہی راہ پرچلنے والے اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖٞ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ۰۰۹۳ تھے اور میںتمہارا رب ہوں۔پس تم میری ہی عبادت کرو۔تفسیر۔پھرحضرت مریم ؑ کا ذکر کرتاہے کہ وہ جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی تھی اس کو بھی یاد کرو۔اس پرہم نے اپنا کلام نازل کیا تھا۔اور اس کو اور اس کے بیٹے کو تمام دنیا کے لئے نشان بنادیا تھا۔اور یاد رکھو کہ یہ ساری جماعت ایک ہی قسم کی جماعت ہے اور میںتم سب انسانوں کا رب ہوں۔پس میری عباد ت کرو۔وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَيْنَا رٰجِعُوْنَؒ۰۰۹۴ اور انہوں نے (یعنی انبیاء کے مخالفوںنے ) شریعت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اپنے اندر تقسیم کر لئے تھے۔(حالانکہ ) وہ سب ہماری طر ف لوٹائے جانے والے ہیں۔حلّ لُغَات۔تَقَطَّعُوْا۔تَقَطَّعُوْاتَقَطَّعَ سے جمع کاصیغہ ہے اور تَقَطَّع اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْکے معنے ہیں