تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 94
شاگردوں کو پیچھے چھوڑا تھا اور صرف تین شاگرد اپنے ساتھ لئے تھے لیکن پھر اس خیال سے کہ ممکن ہے ان کی وجہ سے طبیعت میں حجاب پیدا ہو اور پوری طرح گریہ وزاری نہ ہو سکے اس نے انہیں بھی کہا کہ تم یہاں ٹھہرو اور جاگتے رہو) اور وہ تھوڑا آگے بڑھا اور زمین پر گر کر دعا کرنے لگا کہ اگر ہو سکے تو یہ گھڑی مجھ پر سے ٹل جائے۔(یعنی صلیب پر لٹکنا جس کے ذریعہ سے اس نے تمام بنی نوع انسان کے گناہ اٹھانے تھے اس کے متعلق اس نے یہ دعا کی کہ اے خدا یہ گھڑی مجھ سے ٹل جائے اور دشمن مجھے صلیب پر نہ لٹکا دے) اور کہا اے ابا اے باپ تجھ سے سب کچھ ہو سکتا ہے اس پیالہ کو میرے پاس سے ہٹا لے (ان الفاظ کے صاف معنے یہ ہیں کہ اسے مجبور کیا جا رہا تھا کہ وہ پھانسی پر لٹکے اپنی مرضی سے وہ پھانسی پرلٹکنے کے لئے تیار نہیں تھا پھر اس نے کہا ) توبھی جو میں چاہتا ہوں وہ نہیں بلکہ جو تو چاہتا ہے وہی ہو (یعنی میں تو یہ چاہتا ہوں کہ صلیب پر نہ لٹکوں اور کفارہ نہ بنوں۔لیکن تو چاہتا ہے کہ میں صلیب پر لٹک جائوں گویا مجھ سے زبردستی ایک کام لے رہا ہے اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی بینکر اس شخص سے تو قرضہ وصول نہ کرے جس نے روپیہ لیا اور بازار جاتے ہوئے کسی کی جیب سے زبردستی روپیہ نکال کر یہ سمجھ لے کہ اس کا قرضہ ادا ہو گیا ہے۔مسیح صاف الفاظ میں کہتا ہے ’’ تو بھی جو میں چاہتا ہوں وہ نہیں بلکہ جو تو چاہتا ہے وہی ہو‘‘ یعنی میں تو نہیں چاہتا کہ صلیب پر لٹکوں لیکن اگر تو لٹکانا ہی چاہتا ہے تو مجھے منظور ہے)پھر وہ آیا اور انہیں سوتے پا کر پطرس سے کہا اے شمعون تو سوتا ہے کیا تو ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکا (پطرس کا اصل نام شمعون تھا مسیح نے اس کا نام پطرس رکھا جس کے معنے چٹان کے ہیں اور جس میںاس طرف اشارہ تھا کہ آئندہ زمانہ میںیہ شخص مسیحیت کے لئے چٹان ثابت ہو گا۔مرقس باب ۳ آیت ۱۶) جاگو اور دعا کرو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے(یعنی چونکہ خدا کا منشاء ہے کہ میںصلیب پر لٹک جائوں اس لئے میرا دل تو نہیں ڈرتا مگر جہاں تک بشریت کا تعلق ہے میرا جسم اپنی کمزوری محسوس کرتا ہے) وہ پھر چلا گیا اور وہی بات کہہ کر دعا کی (یعنی پھر یہی کہا کہ اے خدا میری مرضی صلیب پر لٹکنے کی نہیں لیکن اگر تو لٹکانا چاہتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں)اور پھر آ کر انہیں سوتے پایا کیونکہ ان کی آنکھیں نیند سے بھری تھیں اور وہ نہ جانتے تھے کہ اسے کیا جواب دیں (غرض مسیح گھبراہٹ اور بے قراری میں بار بار آتے تھے اور یہ دیکھتے تھے کہ میرے حواری اس مصیبت اور تکلیف کی گھڑی میں میرا ساتھ دے رہے ہیں یا نہیں۔مگر وہ جب بھی آتے۔حواریوں کو سویا ہوا پاتے) پھر تیسری بار آ کر ان سے کہا اب سوتے رہو اور آرام کرو۔بس وقت آ پہنچا ہے دیکھو ابن آدم گنہگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کیا جاتا ہے دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہنچا ہے۔‘‘ اس حوالہ سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح ؑ اپنی مرضی سے ہرگز کفارہ نہیں ہوا۔اس کی خواہش یہی تھی کہ کسی طرح یہ پیالہ