تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 93

ضروری ہے کہ کیا مسیح کفارہ پر راضی تھا ساری دلیل کفارہ کی یہی ہے کہ خدا لوگوں کے گناہ معاف نہیں کر سکتا اور چونکہ وہ معاف نہیں کرسکتا اس لئے اس نے بنی نوع انسان کے گناہوں کا کفارہ مسیح کو سزاد ے کر قبول کر لیا۔ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر زید مقروض ہے اور بکر اس کا قرضہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے تو زید کا قرضہ اتر جاتا ہے بنی نوع انسان گناہ کر کے خدا تعالیٰ کے مقروض ہو گئے ہیں اور وہ بوجہ عادل ہونے کے ان کو معاف نہیںکر سکتا کیونکہ ان کے خیال میں عدل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ گنہگار کو ضرور سزا دی جائے۔پس اس کا علاج اس نے یہ کیا کہ اپنے بیٹے سے لوگوں کا قرضہ وصول کر لیا۔فرض کرو یہ بات ٹھیک ہے۔اگرچہ گناہ روپیہ کی طرح نہیں بلکہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی کو سرطان کا پھوڑا نکلا ہوا ہو۔ایسے شخص کے متعلق اگر دس ہزار لوگ بھی یہ کہیں کہ یہ پھوڑا اسے نہیںنکلا ہوا بلکہ ہمیں نکلا ہوا ہے اور ہم اس کی تکلیف اٹھانے کے لئے تیار ہیں تو وہ اس کی تکلیف کو نہیں اٹھا سکتے۔اسی طرح دنیا میں اور کئی چیزیں ہیں جن کا بدلہ نہیں دیا جا سکتااور گناہ بھی انہیں چیزوں میں سے ہے لیکن ہم فرض کر لیتے ہیں کہ گناہ کا بدلہ دیا جا سکتا ہے اور عیسائیوں کی بات درست ہے۔تو بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی کے قرض کے بدلہ میں دوسرے سے زبردستی روپیہ چھین لینا جائز ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ اگر الف کا قرضہ ب اپنی مرضی سے ادا کر دے تو ایسا کر سکتا ہے لیکن اگر الف کا قرضہ ہم معاف نہ کریں اور ب کی جیب سے جبر اً روپیہ نکال لیں تو ہم نے انصاف ہی نہیں کیا بلکہ ظلم کیا۔انصاف اس لئے نہیں کیا کہ ہم نے اس سے قرض وصول نہیں کیا جس سے وصول کرنا چاہیے تھا اور ظلم اس لئے کیا کہ ہم نے جبر سے کام لیا اور دوسرے کی جیب سے زبردستی روپیہ نکال لیا۔پس اگر مسیح لوگوں کے گناہوں کا قرض ادا کرنے پرراضی ہو اور باقی باتیں بھی ثابت ہو جائیں تو ہمیں مان لینا پڑے گا کہ وہ کفارہ ہو گیا۔لیکن اگر باقی باتیں مسیحیت ثابت بھی کر دے جن کا ہم نے اوپر رد کیا ہے اور یہ ثابت نہ کرے کہ بنی نوع انسان کے گناہ کا بوجھ اپنی مرضی سے مسیح نے اٹھایا تو کفارے کا تمام گھر وندا ختم ہو جاتا ہے کیونکہ جس کو کفارہ کے لئے پیش کیا گیا ہے وہ کفارہ دینے پر راضی نہیں تھا۔اس کے متعلق ہم انجیل کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس بارہ میں کیا بیان دیتی ہے۔مرقس باب ۱۴آیت ۳۲ تا ۴۲ میں لکھا ہے:۔’’ پھر وہ ایک جگہ آئے جس کا نام گتسمنی (Gethsemane)تھا اور اس نے (یعنی مسیح نے) اپنے شاگردوں سے کہا یہاں بیٹھے رہو جب تک میں دعا کروں۔اور پطرس اور یعقوب اور یوحنا کو اپنے ساتھ لے کر نہایت حیران اور بے قرار ہونے لگا (یعنی حضرت مسیح نے صرف تین ساتھی لئے اور علیحدگی میںدعا کرنے کے لئے چلا گیا) اور ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے تم یہاں ٹھہرو اور جاگتے رہو (یعنی پہلے تو باقی