تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 86
مومنوں کو بھی بائبل میں خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔یہاں تک تو اس بات کا ثبوت پیش کیا گیا ہے کہ مسیح ؑکے متعلق جو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خدا کا بیٹا ہونے کا مدعی تھا اور اسی لئے وہ کفار ہ ہوا یہ بائبل کی رو سے درست نہیں بے شک وہ بیٹا ہونے کا مدعی تھا مگر انہی معنوں میںجن معنوں میں پہلے لوگ خدا کے بیٹے کہلائے اور پھر وہ اس کے ساتھ ہی ابن آدم ہونے کا بھی مدعی تھا۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مسیح ؑکا ابن آدم ہونا اصل حقیقت تھی یا اس کا ابن اللہ ہونا اصل حقیقت ہے اور اس کے لئے ہم پھر اس کے کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ مسیح ؑنے یہ تسلیم کیاہے۔کہ میں انہی معنوں میں خدا کا بیٹا ہوں جن معنوں میں بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے اور جب مسیح ؑکے اپنے قول سے یہ بات ثابت ہو گئی۔تو معلوم ہوا کہ اگر مسیح کو کفارے کا حق حاصل تھا تو ان کو بھی حاصل تھا اور اگر ان کو حاصل نہیں تھا تو مسیح ؑکو بھی حاصل نہیں تھا۔اب ہم ایک اور طرح اس مسئلہ پر غور کرتے ہیں۔دنیا میں جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں تو اس کا اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہنا استعارۃًبھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ واقعہ میں اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رہا ہو۔اور چونکہ یہ دونوں امکان موجود ہوتے ہیں۔اس لئے فیصلہ کے لئے ہمیں بہرحال کوئی نہ کوئی رستہ نکالنا پڑے گا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے بعض دفعہ کسی شخص کے متعلق ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ شیر ہے اور کسی کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ وہ باز ہے لیکن ہم اصلی شیر کو بھی شیر ہی کہتے ہیں ہم اپنے بچہ کو چڑیا گھر لے جاتے ہیں تو ایک جانور جو پنجرہ میں بند ہوتا ہے اس کی طرف اشارہ کر کے ہم کہتے ہیں یہ شیر ہے اور دوسری طرف ہمارے سامنے اگر کوئی بڑا بہادر اور دلیر انسان بیٹھا ہو تو اس کے متعلق بھی ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے اب سوال یہ ہے کہ بچہ کس طرح پہچانتا ہے کہ وہ شیر اور ہے اور یہ شیراور ہے؟بہرحال کوئی پہچان ہونی چاہیے جو اس فرق کو واضح کر سکے اور وہ پہچان اسی طرح ہوتی ہے کہ بچہ نے جو نیچر ل ہسٹری کی کتابیں پڑھی ہوئی ہوتی ہیں ان میںیہ لکھا ہوتا ہے کہ شیر کے پنجے ہوتے ہیں دم ہوتی ہے منہ اس طرح ہوتا ہے شکل اس طرح ہوتی ہے پس جب ہم کسی انسان کو شیر کہہ دیتے ہیں اور بچہ دیکھتا ہے کہ اس کی دم نہیں۔اس کے پنجے نہیں اس کی شکل آدمیوں کی سی ہے تو وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اسے شیر استعارہ کے طو رپر کہا گیا ہے اور جب ہم چڑیا گھر کے شیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ وہی شیر ہے جس کی کتابوں میں تصویریں آتی ہیں۔اسی طرح جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص خدا کا بیٹا تھا اور ہم استعارۃً کلام کرتے ہیں ہماری مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ حقیقتاً خدا ہے یا خدا کا بیٹا ہے تو اس وقت ہمارا سامع یہ کس طرح فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کو ہم نے جو خدا یا