تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 87
خدا کا بیٹا کہا ہے تو ہماری مراد استعارہ ہے حقیقت نہیں اس کے لئے بہرحال کوئی نہ کوئی معیار ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کو کوئی غلط فہمی نہ ہو۔جیسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ(الفتح :۱۱) اے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ تیری بیعت نہیں کرتے بلکہ خدا کی بیعت کر تے ہیں يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ان کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ہاتھ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوتا تھا خدا کا ہاتھ نہیں ہوتا تھا اب اس آیت کے باوجود ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نہیں مانتے کیوں نہیں مانتے؟اس لئے کہ قرآن کریم نے بعض اور مقامات پر خدا تعالیٰ کی جو خصوصیات بیان کی ہیں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میںنہیں پائی جاتی تھیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ کھاتا پیتا نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے پیتے تھے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ بھی آتی تھی اور نیند بھی آتی تھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کو بیوی کی ضرورت نہیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاںتھیں۔گویا وہ باتیں جو خدا میں نہیں ہوتیںوہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میںپائی جاتی تھیں اور وہ باتیں جو خدا میں ہوتی ہیں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں پائی جاتی تھیں۔پس جب خدا نے کہا اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہ استعارہ ہے۔یہ مراد نہیں کہ آپ واقعہ میں خدا بن گئے تھے۔چنانچہ ہمارا عقیدہ اور دنیا کے تمام مسلمانوں کا عقیدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی ہے کہ آپ بشر تھے سوائے بعض جہلاء کے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر قرار نہیں دیتے۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا ایک دوست مجھ سے ملنے کے لئے آئے وہ ان پڑھ تھے مگر قرآن کریم کی آیتیں بہت صاف پڑھتے تھے میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ جس دوست کے ذریعہ مجھے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق ملی ہے وہ قرآن کریم نہایت اچھا پڑھتے تھے ان کے پاس رہنے کی وجہ سے میری زبان بھی صاف ہو گئی۔پھر انہوں نے بتایا کہ میں ایک دفعہ اپنے بعض رشتہ داروں کے پاس گیا اور انہیں میں نے کہا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ (حم السجدۃ :۷) میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں۔اس پر وہ کہنے لگے دیکھو میاں یہ اچھی طرح سن لو تم ہمارے رشتہ دار ہو اس لئے ہمیں یہ اچھا نہیں لگتا کہ ہم تمہیں ماریں لیکن اب تم چپ کر کے یہاں سے چلے جائو کیونکہ یہ بات ہم نے کبھی نہیں سنی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آدمی ہیں آج تم نے یہ بات بھی کہہ دی تو بعض جہلاء اس قسم کے بھی