تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 85
حضرت دائود کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سے یہ بتایا گیا تھا کہ بنی اسرائیل خد ااور خدا کے بیٹے ہیں لیکن آگے تشریح کر دی گئی ہے کہ اس کے یہ معنے نہیں کہ یہ واقعہ میں خدا یا خدا کے بیٹے بن جائیں گے۔بلکہ خدا اور خدا کے بیٹے کہلانے کے باوجود یہ مریںگے بھی یہ کھائیں گے بھی یہ پہنیں گے بھی صرف اس لئے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا گیا ہے کہ یہ دنیا میںانصاف قائم کریں گے اور خدا تعالیٰ کے احکام پر لوگوں کو چلائیں گے حضرت دائودؑ بنی اسرائیل کو توجہ دلاتے ہیں کہ خدا نے تم کو اپنا نام دیا ہے۔خدا نے تم کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے تم کو بھی چاہیے کہ اس نام کی وجہ سے اپنے کردار کا جائزہ لو۔غریبوں سے انصاف کرو۔کمزوروں کو اٹھائو۔ستم رسیدوں پر رحم کرو۔عفو اور درگزرسے کام لو اور خدائی صفات اپنے اندر پیدا کرو۔ان حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب حضرت مسیح ؑ نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا تو ان معنوں میں نہیں کہا تھا کہ سچ مچ اپنے آپ کو خدا کا بیٹا سمجھتا تھا کیونکہ اپنے قول کے مطابق وہ اپنے آپ کو اسی طرح خدا تعالیٰ کا بیٹا سمجھتا تھا جس طرح دائود نے بنی اسرائیل کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا۔اسی طرح بائبل میں اور کئی مقامات پر مختلف لوگوں کے متعلق خدا یا خدا کے بیٹے کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں پس جن معنوں میں وہ خدا اور خدا کے بیٹے تھے انہی معنوں میں حضرت مسیح نے بھی اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا۔عیسائیوں کی طرف سے عام طور پر یہ دھوکا دیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح کو خدا یا خدا کا بیٹا اور معنوں میں کہا گیا ہے لیکن یوحنا کا حوالہ صاف بتاتا ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو انہی معنوں میں خدا کا بیٹا کہتا تھا جن معنوں میں پہلے لوگوں کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا گیا تھا۔اگر اور معنے ہوتے تو حضرت مسیح ؑکی دلیل باطل ہو جاتی ہے حضرت مسیح ؑ یہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو بے شک خدا کا بیٹا کہا ہے لیکن بیٹا کہنے سے میں خدائی کا مدعی نہیں بن جاتا۔کیونکہ پہلے لوگوں کو بھی خدا اور خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ مسیح ؑ کا دعویٰ اور قسم کا تھا تو یہ دلیل باطل ہو جاتی ہے یہودی کہہ سکتے تھے کہ پہلے لوگوں کو اور رنگ میں خدا کا بیٹا کہا گیا ہے مگر تم اپنے آپ کو اور رنگ میں خدا کا بیٹا کہتے ہو۔مگر مسیح کا اس حوالہ کو پیش کرنا صاف بتاتا ہے کہ مسیح اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ جن معنوں میں پہلے لوگوں کو خدا یا خدا کا بیٹا کہا گیا ہے انہی معنوں میں میں بھی خدا کا بیٹا ہونے کا مدعی ہوں اور جب مسیح ؑانہی معنوں میں خدا کے بیٹے ہوئے جن معنوں میں پہلے لوگ خدا کے بیٹے تھے تو کفارہ دینے کا حق جیسے مسیح کو حاصل تھا ویسے ہی تمام اسرائیلی نبیوں کو اور ان کے مخلص مومنوں کو حاصل تھا اور اگر ان کو یہ حق حاصل نہیں تھا تو مسیح ؑکو بھی نہیں تھا کیونکہ کفارہ کی بنیاد مسیح ؑکے ابن اللہ ہونے پر ہے اور میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ مسیح بیٹا کہلانے میں منفرد نہیں بلکہ سینکڑوں انبیاء اور ہزاروں لاکھوں