تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 84

استعارہ ہوتا ہے۔یہ مراد نہیں ہوتی کہ میں واقعہ میں خدا بن گیا ہوں۔اس حوالہ میں یہود کی شریعت کی طرف جو اشارہ کیا گیا ہے وہ ہمیں زبور میں ملتا ہے زبور باب ۸۲ میں آتا ہے۔’’ خدا کی جماعت میں خدا موجود ہے وہ الٰہوں نے کے درمیان عدالت کرتا ہے (یعنی مومن لوگ خدا ہیں اور ان خدائوں کے درمیان وہ عدالت کرتا ہے) تم کب تک بے انصافی سے عدالت کرو گے۔اور شریروں کی طرف داری کرو گے غریب اور یتیم کا انصاف کرو۔غمزدہ اورمفلس کے ساتھ انصاف سے پیش آئو۔غریب اور محتاج کو بچائو۔شریروں کے ہاتھ سے ان کو چھڑائو۔وہ نہ توکچھ جانتے ہیں نہ سمجھتے ہیںوہ اندھیرے میں ادھر ادھرچلتے ہیں زمین کی سب بنیادیں ہل گئی ہیں۔میں نے کہا تھا کہ تم اِلٰہ ہو اور تم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو تو بھی تم آدمیوں کی طرح مرو گے اور امراء میں سے کسی کی طرح گر جائو گے۔اے خد ا اٹھ زمین کی عدالت کر۔کیونکہ تو ہی سب قوموں کا مالک ہو گا۔‘‘ (زبور باب ۸۲ آیت۱تا۸) حضرت دائود ؑ کے انہی کلمات کی طرف حضرت مسیح ؑ اوپر کے حوالہ میں اشارہ کرتے ہیں۔اس میں ایک تو یہ آیت ہے کہ ’’وہ الٰہوں کے درمیان عدالت کرتا ہے‘‘ اور پھر آیت ۶ اور ۷ تو بالکل واضح ہیں یعنی یہ کہ ’’ میں نے کہا تھا کہ تم اِلٰہ ہو اور تم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو۔‘‘ اس جگہ حضرت دائود ؑ یہ کہتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل تم سب الٰہ ہو۔تم سب خدا ہو اور تم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو۔لیکن اس کے ساتھ ہی انہوںنے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ باوجود اس کے کہ میںنے تمہیں خدا کہا ہے اور خدا کا بیٹا بھی کہا ہے تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ چونکہ تم نہ اصلی خدا ہو اور نہ اصل میں خدا کے بیٹے ہو۔اس لئے تم آدمیوں کی طرح مرو گے۔یعنی خدا تو مرتا نہیں لیکن تم موت سے نہیں بچو گے۔تمہیں خدا اور خدا کا بیٹا اس لئے کہا گیا ہے کہ تم دنیا میں خدا کی طرح انصاف قائم کرو گے اور خدا تعالیٰ کے قوانین لوگوں میں جاری کرو گے پس چونکہ تم دنیا میں خدا کے مظہر ہو گے اس لئے استعارۃً تمہیں کبھی خدا اور خدا کا بیٹا کہہ دیا گیا ہے۔بعض لوگ جو اس بات کے قائل ہیں کہ انبیاء کے دلی خیالات کا نام ہی الہام ہوتا ہے وہ اس کتاب کو دائود کی زبور کہتے ہیں۔لیکن ہم قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق اسے خدا تعالیٰ کا الہام سمجھتے ہیں اور ہمارے نقطہ نگاہ سے