تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 83

ہونا ممکن نہیں۔آیا تم اس شخص سے جسے باپ نے مقدس کر کے دنیا میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے اس لئے کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں ؟(حضرت مسیح کہتے ہیں تمہارے لئے بائبل میں خدا کا لفظ بولا گیا ہے مگر تم خدا نہیں ہو گئے نہ تم اس لفظ کی وجہ سے کافر بن گئے لیکن میرے لئے صرف بیٹے کا لفظ بولا گیا ہے اور تم کہتے ہو کہ میں کافر ہوں۔جب مجھ سے پہلے لوگوں کے لئے خدا کا لفظ استعمال ہوا اور وہ کافر نہ ہوئے بلکہ یہ سمجھا گیا کہ یہ ایک استعارہ ہے جو استعمال کیا گیا ہے تو میرے لئے بیٹے کے لفظ کا استعمال کون سا قہر ہو گیا کہ تم نے مجھے کافر قرار دے دیا۔یہاں حضرت مسیح ؑنے صاف طور پر اقرار کیا ہے کہ بائبل میں جو ان کے متعلق بیٹے کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ بیٹے کے معنوں میںنہیں کیونکہ دوسروں کی نسبت خدا کا لفظ آیا ہے مگر تم یہ کبھی نہیں کہتے کہ وہ واقعہ میں خدا بن گئے تھے جب تم انہیں مشرک نہیں کہتے جب تم اس لفظ کے باوجود انہیں خدا ئی کا دعویٰ کرنے والے قرار نہیں دیتے تو مجھے کیوں کہتے ہو کہ میں نے یہ لفظ استعمال کر کے خدائی کا دعویٰ کر دیا ہے اور اس وجہ سے میں کافر اور سنگسار کئے جانے کے قابل ہوں ) اگر میں اپنے باپ کے کام نہیںکرتا تو میرا یقین نہ کرو (یعنی لفظی ہیر پھیر اور شرارتوں سے کام لینے کا کیا فائدہ؟ سوال یہ ہے کہ جو کام میں کرتا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کے جلال کے اظہار کے لئے کرتا ہوں یا اس کے خلاف کرتا ہوں۔موحدوں والے کرتا ہوں یا مشرکوں والے کرتا ہوں اگر میں تمام کام موحدوں والے کرتا ہوں تو الہام میں اگر میرے متعلق خدا تعالیٰ نے بیٹے کا لفظ استعمال کیا ہے تو بہرحال اس کے کچھ اور معنے کرنے پڑیں گے اور ضروری ہوگا کہ اس بارہ میں کسی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل میرے کاموں کود یکھا جائے )لیکن اگر میں کرتا ہوں تو گو میرا یقین نہ کرومگر ان کاموں کا تو یقین کرو تاکہ تم جانو اور سمجھو کہ باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں۔انہوں نے پھر اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔‘‘ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۲۵تا ۳۹) اس حوالہ سے صاف پتہ لگتا ہے کہ مسیح ؑنے خود اپنے بیٹا ہونے کے معنے کر دئیے ہیں اور بتایا ہے کہ جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں خدا کا بیٹا ہوں تو میری مراد یہ نہیں ہوتی کہ واقعہ میں خدا کی خدائی مجھ میں آ گئی ہے یا میںبھی ایک خدا ہوں۔بلکہ جس طرح بائبل میں دوسرے لوگوں کے متعلق آتا ہے کہ وہ خدا ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خدا نہیں بن گئے بلکہ یہ ایک استعارہ تھا جو استعمال ہوا۔اسی طرح جب میں اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہتا ہوں تو یہ بھی ایک