تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 82

جماعت سے نہیں اس لئے تم میرے مخالف ہو) میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں (یعنی جو لوگ میری جماعت میں سے ہیں وہ میری آواز کو سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں ) اور میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں اور میں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی انہیںمیرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔میرا باپ جس نے مجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا۔میں اور باپ ایک ہیں (جب حضرت مسیح ؑنے یہودیوں سے یہ بات کہی تو چونکہ آخری فقرہ یہ تھا کہ کوئی انہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا اور پھر انہوں نے یہ کہہ دیا کہ میں اور باپ ایک ہیں اور باپ سے مراد خدا تھا تو اس کے معنے یہ بن گئے کہ میں اور خدا ایک ہیں۔اس سے یہودیوں نے یہ سمجھا کہ یہ شخص خدا ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے چنانچہ لکھا ہے اس فقرہ پر ) یہودیوں نے اسے سنگسار کرنے کے لئے پھر پتھر اٹھائے یسوع نے انہیںجواب دیا کہ میں نے تم کو باپ کی طرف سے بہتیرے اچھے کام دکھائے ہیں۔ان میں سے کس کام کے سبب سے مجھے سنگسار کرتے ہو (یعنی مسیح ؑ نے ان سے کہا کہ میں لوگوں کو نیکی کی تعلیم دیتا ہوں کیا تم اس وجہ سے مجھے سنگسار کرتے ہو۔میں لوگوں کو حلم اور عفو کی تعلیم دیتا ہوںکیا تم اس وجہ سے مجھے سنگسار کرتے ہو۔میں لوگوں کو محبت الٰہی اور خدا ترسی کی تعلیم دیتا ہوں کیا تم اس وجہ سے مجھے سنگسار کرتے ہو میں بنی نوع انسان کی خود بھی خدمت کرتا ہوںاوردوسروں کو بھی خدمت کرنے کی تعلیم دیتا ہوں کیا تم اس وجہ سے مجھے سنگسار کرتے ہو جو کام خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کئے ہیں ان میں سے بہتیرے کام میںنے کئے ہیں۔تم مجھے یہ بتائو کہ میرا کون سا جرم ہے جس کی وجہ سے تم مجھے سنگسار کرنا چاہتے ہو؟) یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ اچھے کام کے سبب سے نہیں بلکہ کفر کے سبب سے تجھے سنگسار کرتے ہیں (یعنی خدمت خلق اور غریبوں سے اچھا سلوک اور حلم اور عفو کی تعلیم اور رحم دلی یہ چیزیں نہیں جن کی وجہ سے ہم تجھے سنگسار کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہمارے سنگسار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تو نے اپنی زبان سے کفر کا کلمہ نکالا ہے) اور اس لئے کہ تو آدمی ہو کر اپنے آپ کو خدا بناتا ہے (یعنی تو نے انسان ہو کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں خدا ہوںاس لئے ہم تجھے سنگسار کریں گے) یسوع نے انہیں جواب دیا کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میںنے کہا تم خدا ہو (یعنی کیا بائبل میں یہ بات درج نہیں کہ خدا نے اپنے بندوں کو خدا کہا ہے؟) جبکہ اس نے انہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کا کلام آیا اور کتاب مقدس کا باطل