تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 81

کے بیٹے ہیں اوراس طرح جو حق مسیح کا سمجھا گیا تھا کہ وہ لوگوں کے لئے کفارہ ہو سکتا ہے باطل ہو جاتا ہے بلکہ اس سے ایک اور بات بھی نکلتی ہے حضرت مسیح اس حوالہ میں یہ کہتے ہیں کہ ’’ مبارک ہیںوہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیںگے۔‘‘ اس جگہ لوگوں کو صرف خدا کا بیٹا قرار نہیں دیا گیا بلکہ وجہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ کیوں خدا کے بیٹے کہلائیں گے اگر خالی خدا تعالیٰ کے بیٹے کے الفاظ استعمال کئے جاتے تو یہ پتہ نہیں لگ سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ کے بیٹے کہلانے کی وجہ کیا ہے۔ہو سکتا تھا کہ ہم کوئی وجہ پیش کرتے اور دوسرا کہہ دیتا کہ ممکن ہے کوئی اور وجہ ہو۔لیکن حضرت مسیح نے یہاں وجہ بھی بتائی ہے کہ کیوں یہ سمجھا جائے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور وہ وجہ صلح کرانابتائی گئی ہے۔آپ فرماتے ہیں مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔گویا صلح کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلانے کی شرط رکھا ہے اور بتایا ہے کہ جو صلح کرواتا ہے وہ بڑا مبارک ہے کیونکہ صلح کرانے سے انسان خدا تعالیٰ کا بیٹا بن جاتا ہے۔اس حوالہ سے صرف یہی نہیں نکلتا کہ مسیح ؑ کے سوا اور لوگ بھی خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں بلکہ ایک اور بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے نہیں۔اگر انہیں بیٹا کہا گیا ہے تو پھر کسی چھوٹی وجہ سے کہا گیا ہے یہ وجہ ان میں موجود نہ تھی۔کیونکہ حضرت مسیح ؑ خود کہتے ہیں کہ ’’ یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں۔‘‘ (متی باب ۱۰ آیت ۳۴) گویا متی کا ایک حوالہ تو یہ بتاتا ہے کہ صلح کرانے کی وجہ سے انسان کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلانے کا حق ہوتا ہے اور دوسرا حوالہ یہ بتاتا ہے کہ یہ وجہ مسیح میں نہیں تھی اس لئے مسیح خدا کا بیٹا نہیں کہلا سکتا۔اسی طرح ایک اور حوالہ ہے جس میں دوسرے انسانوں کو بھی خدا یا خدا کا بیٹا کہا گیا ہے اور حضرت مسیح ؑخود یہ بتاتے ہیں کہ میرا اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہنا یہ معنے نہیں رکھتا کہ میں واقعہ میں خدا یا خدا کا بیٹا ہوں۔یوحنا باب ۱۰ آیت ۲۵ تا ۳۹ میں لکھا ہے حضرت مسیح نے یہود سے کہا:۔’’ جو کام میں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہوں وہی میرے گواہ ہیں (یعنی میری سچائی معلوم کرنے کے لئے تمہیں باہر سے کسی شہادت کے معلوم کرنے کی ضرورت نہیں۔جو کام خدا تعالیٰ نے مجھ سے کروائے ہیں وہ اپنی ذات میں اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ میں سچا اور راستباز انسان ہوں) لیکن تم اس لئے یقین نہیں کرتے کہ میری بھیڑوں میںسے نہیں ہو (یعنی چونکہ تم میری