تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 80

ان دنوں چھپے پھرتے تھے اور وہ اور ان کے شاگر د ایک ہی قسم کا لباس پہنتے تھے اور منہ کو بھی ڈھانک کر رکھتے تھے تاکہ حضرت مسیح کا ان کو پتہ نہ چل جائے (یوحنا باب ۲۱ آیت ۴) دشمن بھی آپ کی تلاش میں تھا اور وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح ہمیں پتہ لگ جائے کہ ان میں سے مسیح ؑ کون سا ہے۔آخر انہوں نے تیس روپے رشوت دے کر حضرت مسیح ؑ کے ایک شاگرد کو جس کا نام یہوداہ تھا اپنے ساتھ ملا لیا اور اس نے کہا تم میرے ساتھ چلو۔جہاں سب اکٹھے بیٹھے ہوئے ہوںگے۔وہاں آگے بڑھ کر میں جس شخص کا بوسہ لوں تم سمجھ جانا کہ وہی مسیح ہے اور اسے گرفتار کر لینا۔ادھر حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت الہام کے ذریعہ بتا دیا کہ تمہارا فلاں شاگرد اس طرح غداری کرے گا۔چنانچہ جب یہودا دشمن کے سپاہی لے کر وہاں پہنچا اور وہ آپ کا بوسہ لینے کے لئے آگے بڑھا تو حضرت مسیح نے کہا ’’ اے یہوداہ کیا تو بوسہ لے کر ابن آدم کو پکڑواتا ہے۔(لوقا باب ۲۲ آیت ۴۸) گویا مسیح ؑجب آیا تب بھی ابن آدم تھا جب دوبارہ آئے گا تب بھی ابن آدم ہو گا اور جب صلیب پر لٹکایا گیا تب بھی وہ اپنے قول کے مطابق ابن آدم ہی تھا۔پس جب مسیح ؑ خود اپنے آپ کو ابن آدم کہتا ہے تو خدا تعالیٰ کے بیٹے کے ایسے معنے کرنے جو توراۃ اور انجیل کی تعلیم کے خلاف ہوں کس طرح جائز ہو سکتے ہیں۔ایسی صورت میں یا تو ہم یہ کہیں گے کہ حضرت مسیح نعوذباللہ فاتر العقل لوگوں کی طرح کبھی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دے دیتے تھے اور کبھی ابن آدم کہنے لگ جاتے تھے اور یا پھر ہمیں اس کا کوئی حل نکالنا پڑے گا اور ان میں سے ایک کو استعارہ اور دوسرے کو اصل قرار دینا پڑے گا۔اگر ہمیں پتہ لگ جائے کہ استعارہ کونسا ہے اور اصل کونسا تو ہم بڑی آسانی سے صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔اگر ابن آدم استعارہ ہو تو پھر ابن اللہ کو اصل ماننا پڑے گا اور اگر ابن اللہ استعارہ نکل آئے تو ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح ہو جائے گی کہ خدا تعالیٰ کے بیٹے کی قربانی پر جو کفارہ کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ ساری کی ساری غلط ہے۔اس نقطہ نگاہ سے جب ہم انجیل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں مسیح کے یہ الفاظ نظر آتے ہیں کہ :۔’’ مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے ‘‘ (متی باب ۵ آیت ۹) یہاں حضرت مسیح ؑ اپنے سوا دوسرے انسانوں کو بھی خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ خدا کا بیٹا کہلانا انسان کو خدا نہیں بنا دیتا۔اگر کسی شخص کو خدا کا بیٹا ماننے سے اس میں خدائی تسلیم کرنی پڑتی ہے تو پھر وہ تمام لوگ جو صلح کراتے ہیں اس حوالہ کے مطابق خدائی کے دعوے دار بن سکتے ہیں اور وہ تمام کے تمام اس بات کے مستحق ہو جاتے ہیں کہ کفارہ دے سکیں۔لیکن اس حوالہ سے صرف یہی نہیںنکلتا کہ حضرت مسیح ؑکے سوا اور لوگ بھی خدا تعالیٰ