تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 79
لوگ غرباء سے کام لیتے ہیں اور ان پر کئی قسم کے مظالم کرتے ہیں۔اس لئے مسیح ؑنے کہا کہ ابن آدم اس لئے نہیں آیا کہ وہ خدمت لے بلکہ اس لئے آیا ہے کہ خدمت کرے۔جہاں تک اخلاقی تعلیم کا سوال ہے یہ بڑی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے کہ انسان کو ظلم نہیںکرنا چاہیے اور دوسروں کی خدمت میںاپنی زندگی بسر کرنی چاہیے لیکن جہاں تک یہ سوال ہے کہ مسیح کیا تھا؟ اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح آدم کا بیٹا تھا۔پھر لکھا ہے ’’ جیسا نوح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابن آدم کے آنے کے وقت ہو گا‘‘(متی باب ۲۴ آیت ۳۷) اسی طرح اسی باب کی چوالیسویں آیت میں لکھا ہے۔’’ جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہوگا ابن آدم آ جائے گا۔‘‘ (متی باب ۲۴ آیت ۴۴) یعنی مسیح ؑکی پہلی آمد بھی ابن آدم کی حیثیت میں تھی اور جب وہ دو بارہ آئے گا تب بھی ابن آدم کی حیثیت میں ہی آئے گا۔مگر وہ ایسا اچانک آئے گا کہ لوگوں کو اس کی آمد کا گمان بھی نہ ہوگا یعنی جس طرح خدا تعالیٰ کے انبیاء آتے ہیں اور لوگ ان کی آمد کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے انہیں جھوٹا کہنے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح مسیح ؑ کے ساتھ ہو گا۔پھر لکھا ہے :۔’’ فانی خوراک کے لئے محنت نہ کرو بلکہ اس خوراک کے لئے جو ہمیشہ کی زندگی تک باقی رہتی ہے جسے ابن آدم تمہیں دے گا۔‘‘ (یوحنا باب۶ آیت ۲۷) یعنی لوگ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں روٹی کپڑا ملے لیکن تمہیں ان چیزوں کے لئے کوشش نہیںکرنی چاہیے۔بلکہ اس خوراک کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے جو حقیقی زندگی بخشتی ہے اور جو ابن آدم یعنی مسیح سے حاصل ہوتی ہے۔باقی چیزیں تو سب فانی اور عارضی فائدہ پہنچانے والی ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ اس تعلیم کے باوجود سب سے زیادہ حضرت مسیح ؑ کی امت نے ہی دنیا کمانے کی طرف توجہ کی ہے اور سب سے زیادہ انہوں نے ہی روحانیت کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔پھر لکھا ہے مسیح ؑ نے کہا ’’ اے یہوداہ کیا تو بوسہ لے کر ابن آدم کو پکڑواتا ہے۔‘‘ (لوقا باب ۲۲ آیت ۴۸) یہوداہ حضرت مسیح ؑ کا ایک شاگرد تھاجس نے تیس روپوں کے بدلے انہیں دشمنوں کے حوالے کر دیا تھا مسیح ؑ