تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 579
شریک قرار دیتے تھے وہ اس کے شریک نہیںاور وہ یقین کرلیںگے کہ شاید ہمار ی روحانی بصیرت ماری گئی ہے کہ معبود ان الٰہی اب ہمیں معبود ان الٰہی نظر نہیں آتے۔فرماتا ہے ضمیرکا یہ عذاب بھی بڑاعذاب ہے اور خصوصاً اس صورت میں جب کہ وہ دنیا کے عقیدہ کے بطلان کو صحیح سمجھیں گے اور دنیاکے عقیدہ کو غلط سمجھیںگے اور حیران ہوں گے کہ ہم ایسی بات کو کس طرح صحیح سمجھتے رہے۔جب یہ بات اتنی واضح تھی تو کیا اب ہم اندھے ہوگئے ہیں کہ ہم کو اپنے معبودوں کی سچائی تک نظر نہیں آتی۔اس کے بعد آیت کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ عذاب توکچھ بھی نہیںاصل عذاب تو وہ ہے جو بعد میںآنے والا ہے یعنی جہنم کا عذاب یہ ضمیر کاعذاب بھی بے شک گھبراہٹ پیدا کرتاہے اور یوں محسوس ہوتاہے کہ گویاتم اب اندھے ہوگئے ہو اور پہلے سوجا کھے تھے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ تم پہلے اندھے تھے اور اب بینا ہو۔اور جب اس حقیقت کے مطابق تم پر عذاب آئےگا تب تم کو معلوم ہوگا کہ تم اندھے دنیا میںتھے کہ غلط چیزکو صحیح سمجھتے تھے لیکن بینا اب ہوکہ غلط کو غلط سمجھنے لگ گئے ہو اور صحیح کو صحیح۔پس درحقیقت اس آیت میںایک طنزیہ کلام کیا گیا ہے جس سے کفار کے عقیدہ پر طنز کی گئی ہے کہ وہ بے وقوف شرک کرتے ہوئے بھی ا پنے آپ کو بینا سمجھتے ہیں۔حالانکہ آخرت میںاس شرک کے منکر ہوجائیںگے اور حیران ہوںگے کہ کیا اب ہم اندھے ہیں یاپہلے اندھے تھے۔یہ کیا حماقت ہے کہ جب ہم اندھے تھے تو اپنے آپ کوبیناسمجھتے تھے۔اس آیت کے متعلق ایک اور سوال بھی قابل حل ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا جوشخص میرے ذکرسے اعراض کرےگا اسے ایک تنگ زندگی میںسے گذرناپڑےگا۔مگر ہمیںتو یہ دکھائی دیتا ہے کہ غیر مذاہب والوںکو معیشت کی کوئی تنگی نہیں بلکہ ان میں سے اکثریت ایسی ہے جن کی مالی حالت مسلمانوں سے بدرجہا بہتر ہے اور ہر قسم کے عیش اور آرام کے سامان انہیںمیسر ہیںاس سوال کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ معیشت کے معنے اس چیز کے ہوتے ہیںجس سے انسانی زندگی قائم رہے(اقرب) اور انسانی زندگی کے قیام کے لئے صرف کھانا پینا یامال و دولت کا میسر آجانا ہی ضروری نہیں ہوتابلکہ اور بھی ہزاروں چیزیں ہیںجوانسان کی مذہبی۔تمدنی۔اور روحانی زندگی کو سنوار نے والی ہیںاوریہی وہ چیزیں ہیںجوا لٰہی تعلیم سے اعراض کرنے والوںکو میسر نہیں آتیں اوراس لحاظ سے ان کی معیشت ان پرشدید طور پر تنگ ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وسعت عمل خدا تعالیٰ کی صفات پر ایمان لانے اور ان کے مطابق اپنے اندر تغیر پید اکرنے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے اور جو شخص صفات الٰہیہ پر ایمان نہ رکھتا ہو اس کادائرئہ عمل نہایت محدود ہوتاہے۔دائرئہ عمل ہمیشہ اعلیٰ مطمح نظر سے وسیع ہوتاہے اور جب کوئی اعلیٰ مطمح نظر سامنے نہ ہو تو اعمال بھی محدود ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے