تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 578

کا ذکر نہیں قرآن بھی کہتاہے وَنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى اور کافربھی کہتاہے کہ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اورکافر بھی دونوں اس بات پر متفق ہیںکہ یہ اخروی زندگی کے عذاب کا ذکر ہے لیکن ان آیات کے معاً بعد پھر یہ فرماناکہ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى کہ آخرت کاعذاب اس سے بھی سخت ہوگا ایک بالکل بے جوڑ فقرہ معلوم ہوتاہے اور انسان حیران ہوتاہے کہ جب پہلے بھی عذاب آخرۃ کا ذکر آچکا ہے تو پھر دوبارہ عذاب آخرۃ کا ذکر کیوں کیا گیا ہے۔اور یہ کون سا عذاب آخرت ہے جو پہلے عذاب آخرت سے بھی زیادہ سخت ہوگا ؟ اس مشکل کاحل یہ ہے کہ قرآن و احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ یوم آخرت ایک لمباوقت ہے جس میں مختلف اوقات میں کفار کی مختلف حالتیں ہوںگی۔چنانچہ سورۃ انعام رکوع ۱۱ (آیت ۹۵)میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ یعنی آج تو تم ہمارے پاس اس طرح اکیلے اکیلے آئے ہو جس طر ح ہم نے تمہیںپہلی مرتبہ پید اکیا تھا اور جو کچھ ہم نےتمہیںدیاتھا اسے تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو۔اور پھریہ کیا بات ہے کہ ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان شفعاء کو نہیں دیکھتے جن کے بارہ میںتم بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے اور کہاکرتے تھے کہ وہ تم میں خداکے شریک ہیںبات یہ ہے کہ آج تمہارے آپس کے رشتے بالکل کٹ گئے ہیںاور جوکچھ تم کیا کرتے تھے وہ سب کچھ تم سے کھویا جاچکا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ یوم آخرت میںایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ کافروں اور ان کے معبودوں کے درمیان تعلق منقطع ہوجائےگا اور وہ اپنے شرک کے دعویٰ کو بھول جائیں گے۔یعنی دنیا میں تو ان کو اصرار تھا کہ جن بتوںکو ہم پوجتے ہیںوہ واقعہ میں خداکے شریک ہیںاور ہم اس دعوٰی میں سچے ہیںیعنی اپنے مذہب کی سچائی دیکھ رہے ہیں۔لیکن قیامت کے دن ایک وقت آئے گا کہ وہ سب دعوے ان کو بھول جائیںگے اور وہ بت جن کو وہ دنیا میںپوجتے تھے ان کے دماغ سے اوجھل ہوجائیںگے گویاوہ ان کی خدائی سے منکر ہوجائیںگے اس وقت وہ اپنی دنیوی حالت کا مقابلہ اخروی حالت سے کریںگے اور کہیں گے کہ اے خدا یہ کیا ہوگیا کہ ہم دنیا میں تو اپنے بتوں کی خدائی دیکھ رہے تھے اور اسی لئے ان پر ایمان لائے تھے لیکن اب وہ سب دلیلیںغائب ہوگئیںاور اب ہمیںکچھ بھی نظر نہیں آتا۔گویاہم دنیاکے مقابلہ میںبالکل اندھے ہو گئے ہیں۔یہ حالت بھی ایک عذاب کی ہوگی کیونکہ ان کو معلوم ہو جائےگا کہ وہ دنیامیںجس چیز کو صحیح سمجھتے تھے وہ غلط تھی اس احساس کا پید اہوجانا خود ایک عذاب پیدا کرتاہے۔اور اس آیت میںا سی طرف اشارہ ہے کہ مرنے کے بعدپہلا عذاب کافروں کو یہ ملے گا کہ ان کویقین ہو جائےگا کہ جن کو ہم خدا کا