تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 580
کہ انبیاء کے مقابلہ میںفلاسفروںکے اخلاق بالکل ہیچ ہوتے ہیں اور پھر ان کے اندر جوتھوڑے بہت اخلاق پائے بھی جاتے ہیں۔ان کا دائرہ عمل محدود ہوتاہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھا جائے تو ہمیںآپ کے اندر تمام اخلاق دکھائی دیںگے آپ میں سچائی بھی شاندار طور پر نظرآئے گی آپ میں امانت بھی شاندار طورپر نظر آئے گی آپ میں سخاوت بھی شاندار طورپر نظر آئے گی۔آپ میں رحم بھی شاندار طور پر نظر آئے گا۔آپ میں غریبوں کی پرورش کامادہ بھی شاندار طورپر نظر آئے گا۔آپ میںانصا ف بھی شاندار طورپر نظر آئےگا آپ میںتوکل بھی شاندار طورپر نظر آئےگا۔اسی طرح تحمل۔بردباری۔دوسروں کے جذبات کا احترام۔عورتوں سے حسن سلوک۔بنی نوع انسان کی خدمت صبر چشم پوشی۔تعاون باہمی۔بہادری وفائے عہد اور اسی قسم کے سینکڑوں اخلاق آپ کے اندر شاندار طورپر دکھائی دیںگے۔لیکن کوئی فلاسفر ایسا نہیں نکل سکتاجو تمام اخلاق فاضلہ کاجامع ہو بلکہ کسی میںکوئی ایک خوبی ہوگی اور کسی میںدو اور پھران کا دائرہ بھی محدود ہوگا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جب تک کوئی اعلیٰ مطمح نظر نہ ہو اور جب تک کوئی ایساکامل نمونہ سامنے نہ ہو جس کی نقل کی جاسکے اس وقت تک اعمال ایک محدود دائرہ میںہی چکر کھاتے رہتے ہیںاوران میںوسعت پیدا نہیں ہوسکتی اور چونکہ کلام الٰہی کامنکر خدا تعالیٰ سے اعراض کرنے کی و جہ سے صفات الہٰیہ کو اپنے اندر پیدا نہیں کرتا اس لئے قیامت کے دن بھی جب خدا تعالیٰ کی صفات کا ظہور ہوگا تو وہ ان کو پہچان نہیں سکے گا اوراندھوں کی طرح کھڑارہے گا۔جس طر ح وہ شخص جس نے کبھی خربوزہ نہیںدیکھا۔خربوزے کو دیکھ کر بھی اسے پہچان نہیںسکتا اسی طرح وہ شخص جس نے صفات الٰہیہ کو اپنے اندر پیدا نہیں کیا وہ صفات الٰہیہ کے ظہو ر کو بھی پہچان نہیںسکے گا۔او ر نابیناہونے کی حالت میںاٹھے گا اس پر وہ گھبرا کر کہے گا کہ میںتو بڑابصیر تھا مجھے آج اندھا کیوں پیدا کیا گیاہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائےگا کہ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى دنیا میں ہم نے اپنے رسولو ں کے ذریعہ بیسیوں نشانات و معجزات ظاہر کئے تھے مگر تم نےان کی طرف کبھی توجہ نہ کی اگر تم بینا ہوتے تو ہماری آیات کا انکار کیوں کرتے۔پس چونکہ تم پہلے بھی اندھے تھے اس لئے آج بھی اندھے ہی اٹھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اخروی نابینائی درحقیقت روحانی ہی ہوگی۔کیونکہ فرماتا ہے جس طرح اب تم روحانی امور کو نہیںدیکھ سکتے اسی طرح تم دنیامیں روحانی امور کو نہ دیکھ سکے تھے اگر روحانی نابینائی مراد نہ ہوتی تو کذالک کا لفظ استعمال نہ ہوتا۔دوسری دفعہ کذالک اس لئے استعمال کیاکہ پہلے جہان میں بھی تیر ے عمل کی وجہ سے ہم نے تجھے چھوڑ دیاتھااور اب بھی چھوڑ دیا ہے تجھے ہم نے بیناکبھی قرار نہیں دیا۔