تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 577

اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا۰۰۱۲۶قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا حالانکہ میں تو خوب دیکھ سکتاتھا۔(اس پر خدا تعالیٰ) فرمائے گا تیرے پاس بھی تو ہماری آیا ت آئی تھیں جن کو فَنَسِيْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى۰۰۱۲۷وَ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ تو نے بھلا دیا تھا سو آج تجھ کو بھی (خدا کی رحمت کی تقسیم کے وقت) ترک کردیا جائےگا۔اورجو خدائی قانون سے مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ يُؤْمِنْۢ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ باہرچلا جاتاہے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہیں لاتا اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے (اور یہ تو دنیوی سلوک ہے) الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى ۰۰۱۲۸ آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت اور بہت مدت تک جانےوالا ہے حلّ لُغَات۔الضَنْکُ الْضِّیْقُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ یعنی ضَنْک تنگی کو کہتے ہیں(اقرب) پس مَعِيْشَةً ضَنْكًا کے معنے ہوںگے تنگ زندگی۔تفسیر۔اس آیت میں منکروںکے لئے پہلے تو ایک دنیوی سزا کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کو اس دنیا میں ایک تکلیف دہ زندگی ملے گی اور پھر اخروی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ اندھے اٹھائے جائیںگے یہاں تک کہ ان میںسے ہرشخص چلا اٹھے گا کہ اے خدا میں تو اس دنیامیںاچھا سوجھ بوجھ والا آدمی تھا اس دنیامیں تو نے کیا کیا کہ مجھے اندھا اٹھایاجس سے معلوم ہوتاہے کہ اندھا اٹھانا اگلے جہان کا عذاب ہے اللہ تعالیٰ جواب میںفرماتا ہے کہ دنیامیں تو بھی ہمارے نشانوں کے پاس اندھا ہوکر آتاتھا۔اور ان کو بھول جاتا تھا۔اس لئے آج اس دنیا میںتجھ کو بھی بھلادیا گیاہے اور جوبھی اپنے رب کی آیات پرایمان نہ لائے اور حدسے بڑھ جائے اس کو ہم ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیںاور آخرت کا عذاب تو اس اندھے اٹھائے جانےکے عذاب سے بھی زیادہ ہوگا۔اس آیت کے مفہوم میں ایک الجھن ہے جس کو اس جگہ دور کرنا ضروری ہے۔اور وہ یہ کہ پہلے حصہ میں تو یہ کہاگیاہے کہ مجھے تونے اندھاکرکے کیوں اٹھایاجس کے معنے یہ ہیںکہ یہ اخروی زندگی کا ذکر ہے اس دنیا کی زندگی