تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 576
يَشْقٰى۰۰۱۲۳ و ہ کبھی گمراہ نہ ہوگا اور نہ کبھی ہلاکت میں پڑےگا۔حلّ لُغَات۔ھَبَطَھَبَطَ الْوَادِیَ کے معنے ہوتے ہیں نَزَلَہٗ اس وادی میںاترا اور ھَبَطَ مِنْ مَوْضِعٍ اِلٰی مَوْضِع اٰخَرَکے معنے ہوتے ہیں اِنْتَقَلَ۔ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا گیا (اقرب )پس اِھْبِطَاکے معنے ہوںگے تم دونوں یہاں سے چلے جائو۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے کہا۔تم دونوں یہاں سے چلے جائو تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوںگے اس جگہ دونو ں سے آدم اور حوا مراد نہیں۔کیونکہ اس صورت میںآیت کے یہ معنے بنیں گے کہ آدم اور حوا آپس میں دشمن رہیںگے اور یہ بات بالبداہت باطل ہے دونوں سے مراد درحقیقت دو گروہ ہیں یعنی ایک وہ گروہ جو آدم کے ساتھ تعلق رکھنے والا تھا اور ایک وہ گروہ جو شیطان کے ساتھ تعلق رکھنے والا تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ اے آدم اور شیطان سے تعلق رکھنے والے گروہو!تم دونو اس جگہ سے چلے جائو۔اب تم دونوں گروہ آپس میںہمیشہ دشمن رہو گے۔چنانچہ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اھبطا کے ساتھ جمیعاً کا لفظ بھی آتا ہے حالانکہ دو کے لئے عربی زبان میںجمیعاً کبھی نہیں آتا۔یہ جمیعاً کا لفظ اسی لئے بڑھایا گیا ہے کہ آدم کے بھی کئی ساتھی تھے اور شیطان کے بھی کئے ساتھی تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ تم سب اس جگہ سے چلے جائو اسی طرح بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ میں بھی کُم کا لفظ جو تین یاتین سے زیادہ افراد کے لئے بولا جاتاہے بتارہا ہے کہ جن کو نکلنے کا حکم دیا گیا تھا وہ ایک جماعت تھی نہ کہ دوافراد۔وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّ اور جوشخص میرے یاد دلانے کے باوجود اعراض سے کام لے گا اسے تکلیف والی زندگی ملے گی۔اور قیامت نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى ۰۰۱۲۵قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْۤ کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔(جس پر )وہ کہے گا۔اے میرے رب تو نے مجھے کیوں اندھا اٹھایا ؟