تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 572
شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا يَبْلٰى۰۰۱۲۱فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ دوں جو سدا بہار ہے۔اور ایسی بادشاہی (کاپتہ دوں) جو کبھی فنا نہ ہوگی۔پس ان دونوں نے (یعنی آدم اور اس کے لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ ساتھیوں نے )اس درخت میں سے کچھ کھایا (یعنی اس کا مزہ چکھا) جس پر ان دونوں کی کمزوریاں ان پرکھل گئیں الْجَنَّةِ١ٞ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰىۖ۰۰۱۲۲ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ اور وہ دونوں اپنے اوپر جنت کی زینت کے سامان (یعنی اعمال نیک) لپیٹنے لگ گئے۔او رآدم نے اپنے رب کی فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى ۰۰۱۲۳ نافرمانی کی پس وہ صحیح راستہ سے بھٹک گیا۔اس کے بعد اس کے رب نے اس کو چن لیا او راس پر رحم کی نظر ڈالی اور اسے صحیح طریق کار بتایا۔تفسیر۔ان آیات میںاللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ ہم نے آدم کو جنت میں رکھاتو شیطان ان کا مد مقابل بن کر کھڑاہوگیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آدم سے فرمایا کہ اے آدم! یہ تیر ا بھی دشمن ہے اور تیری بیوی یاتیرے ساتھیوں کا بھی دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکال دے او رتم تکلیف میںمبتلاہوجائو۔تیرے لئے خدا تعالیٰ کا یہی فیصلہ ہے کہ تو اس جنت میںنہ بھوکا رہے نہ ننگا نہ پیاسا رہے اور نہ گرمی کی تکلیف تجھے ستائے۔اگر تو نے اس کی بات مانی تو یہ جنتی گھر جو مومن کے لئے مقرر ہے اس میں سے وہ تجھے نکال دے گا۔یعنی اس کی بات ماننے سے تو جنت سے محروم رہ جائےگا۔اس کے یہ معنے نہیںکہ وہ اس وقت اس جنت میں تھے جس کا موت کے بعد مومنوں سے وعدہ کیاگیا ہے۔چنانچہ اگلی آیات اس امر کو بالکل واضح کردیتی ہیں۔کیونکہ شیطان بھی آدم سے جنت کاوعدہ کرتاہے۔اگر وہ اس وقت جنت میںتھے تو اس وعدہ سے دھوکا کیونکر کھا سکتے تھے ؟ صاف ظاہر ہے کہ شیطان کے قول سے انہوں نے یہی دھوکاکھایا کہ یہ ہمارے مقصد میں ممد ہے۔پس اس جگہ جنت سے اخروی جنت مراد نہیں بلکہ دنیوی جنت مراد ہے۔اور یہ جو بعض دوسرے مقامات پر آتاہے کہ انہیںجنت میںرکھا گیا تو درحقیقت اس سے مراد بھی دنیوی جنت ہے جو اخروی جنت کا پیش خیمہ ہوتاہے اور جس کے ملے بغیر انسان کو اخروی جنت بھی