تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 571

سے محبت کر۔چنانچہ وہ اس سے محبت کرنے لگ جاتاہے۔پھر جبریل آسمان والوں میں منادی کرتاہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فلاں بندے سے محبت کرتاہے تم بھی اس سے محبت کرو۔اس پر تمام آسمان والے اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتاچلا جاتاہے۔یہاں تک کہ یُوْضَعُ لَہُ الْقَبُوْلُ فِی الْاَرْضِ اس بندے کے لئے زمین میں بھی قبولیت پھیلادی جاتی ہے (بخاری جلد ۲ کتاب بدءالخلق باب ذکر الملائکۃ) اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبین سے محبت کرنے کا حکم فرشتوں کو دیتاہے اور پھر وہ اس حکم کو دنیا میںجاری کردیتاہے۔پس معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم فرشتوں سے مخصوص نہیں ہوتا بلکہ اہل زمین بھی اس میںشامل ہوتے ہیں۔اس حکم کی طرف اس آیت میںاشارہ کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سوائے ابلیس کے اور سب نے میرے حکم کی اطاعت کی اور وہ آدم کی تائید میں مشغول ہوگئے۔اس تشریح سے قرآن کریم کی وہ آیت بھی حل ہوجاتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ابلیس سے فرماتا ہے کہ۔مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ(الاعراف:۱۳) کہ باوجود اس کے کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ تو آدم کی فرمانبرداری کر۔پھر تجھے میرے اس حکم کی اطاعت سے کس چیز نے روکا ؟ اس جگہ بھی امرلمہء ملکی کا ہی نام رکھا گیا ہے۔ورنہ یہ مراد نہیں کہ ابلیس کو کوئی علیحدہ حکم دیا گیا تھا۔فَقُلْنَا يٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا۠ اس پر ہم نے آدم سے کہا۔اے آدم یہ (ابلیس) یقیناً تیرا اور تیرے ساتھیوں کا دشمن ہے پس تم دونوں (گروہوں) مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى۰۰۱۱۸اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا کو یہ جنت سے نہ نکال دے کہ اس کے نتیجہ میں تو( اور تیرا ہر ساتھی) مصیبت میں پڑجائے۔یقیناً اس( جنت) میں تَعْرٰىۙ۰۰۱۱۹وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيْهَا وَ لَا تَضْحٰى۰۰۱۲۰ تیرے لئے یہ (مقدر) ہے کہ تو بھوکا نہ رہے (اور نہ تیرے ساتھی) اور تو ننگانہ رہے اور نہ تو پیاسارہے۔اور نہ دھوپ فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ قَالَ يٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى میں جلے اس پر شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا (اور کہا) اے آدم کیا میں تجھے ایک ایسے درخت کا پتہ