تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 573
نہیںمل سکتی۔بہرحال جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا۔کہ شیطان تمہارا دشمن ہے تو شیطان نے اپنا بھیس بدلااور اس نے آدم کے پاس آکرکہا۔کہ کیا میںآپ کو ایک ایسے درخت کا پتہ دوں جس کا پھل کھانے سے آپ کودائمی حیات مل سکتی ہے اور ایسی حکومت کاآپ کو پتہ دوں جو کبھی تباہ نہیںہوگی۔جب اس طرح کی چکنی چپڑی باتیںاس نے کیں توآدم کو دھوکا لگ گیا۔اور انہوں نے اور ان کی جماعت نے یاآدم اور اس کی بیوی نے اس درخت کا پھل کھالیا جس کے قریب جانے سے اللہ تعالیٰ نے انہیں منع کیا تھا یعنی انہوں نے وہ کام کر لیا جس سے انہیں روکا گیاتھا۔اور چونکہ آدم کا یہ فعل خدائی منشاء کے خلاف تھا۔اس لئے یکدم اس فعل کے برے نتائج ظاہر ہونے شروع ہوگئے اور آدم کی آنکھیںکھل گئیںکہ اس نے خدائی منشاء کی خلاف ورزی کر کے سخت غلطی کا ارتکاب کیاہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا درخت کا پھل کھانے سے ان کا ننگ ظاہر ہونا شروع ہوگیا اور اس فعل کے برے نتائج ان پر روشن ہوگئے اور انہوں نے سمجھا کہ ہم ایک عیب کے مرتکب ہوئے ہیںجب آدم کو اپنی اس غلطی کا احساس ہوا تو طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ انہوں نے اس غلطی کے ازالہ کے لئے جنت کے پتوں سے اپنے آپ کوڈھانکنا شروع کردیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آدم نے خداکے حکم کی نافرمانی کی تھی جس سے وہ تکلیف میںمبتلا ہوا۔مگر پھرخدا نے اسے بزرگی دی۔اور جب اس نے ورق الجنۃ سے اپنے آپ کوڈھانکناشروع کردیا تو خدا تعالیٰ نے اسے وہ راستہ دکھادیا جو اسے اور اس کی جماعت کو کامیابی کی منزل کی طرف لے جانے والا تھا۔عربی زبان میںورق کے معنے زینت کے بھی ہوتےہیں۔اور ورق کے معنے نسل کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ لغت میںلکھاہے الْوَرْقُ جَمَالُ الدُّنْیَا وَ بَھْجَتُھَا یعنی دنیا کی خوبصورتی اور اس کی رونق کوورق کہتے ہیں۔اسی طرح عربی زبان کا محاورہ ہے اَنْتَ طَیّبُ الْوَرْقِ اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ تو طیب النسل ہے ان دونوں محاوروں کے لحاظ سے طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ کے یہ معنے ہوئے کہ آدم نے جنت کی زینت اور اس کے جمال سے اپنے آپ کو ڈھانکناشروع کردیا۔اور یہ ظاہر ہے کہ جنت کا جمال اس کے مومن اور پاکباز ساکن ہوتے ہیں اسی طرح دوسرے معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا یہ مطلب ہوا کہ آدم نے ایک پاکیزہ نسل کے ذریعہ شیطانی فریب کاازالہ کرنا شروع کر دیا اور وہ کامیاب ہوگیا۔بائیبل نے اس واقعہ کو ان الفاظ میںبیان کیاہے۔’’ سانپ کل دشتی جانوروںمیںسے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اس نے عورت