تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 554

کیا ہارون علیہ السلام اگر اسی فعل کے مرتکب ہوتے جس کابائیبل انہیںمرتکب قرار دیتی ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ان سے یہی سلوک کیاجاتا۔جب اس شرارت کے تمام سرغنے قتل کردیئے گئے تھے تو حضرت ہارون علیہ السلام کو کیوںقتل نہ کیا گیا۔اور جب خدا نے موسیٰ سے کہا تھا کہ’’ جس نے میرا گناہ کیا ہے میں اس کے نام کو اپنی کتاب میں سے مٹائوںگا۔‘‘(خروج باب ۳۲ آیت ۳۳ ) تو اگر حضرت ہارون ؑ قصوروار تھے تو ان کانام کیوں نہ مٹایاگیا۔بلکہ بائیبل تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہارون پر اظہارر ناراضگی کرنےکی بجائے اپنی خوشنودی کا اظہار کیا۔اور حکم دیا کہ آئندہ تمام عبادت گاہوں کا انتظام ہارون اور اس کے بیٹوں کے سپرد کردیا جائے۔اللہ تعالیٰ کا یہ انعام اور اس کی طرف سے خوشنودی کا اظہا ر بتارہا ہے کہ بچھڑا بنانا تو الگ رہا حضرت ہارون اس کے پجاریوں میں سے بھی نہیںتھے بلکہ جیساکہ قرآن کریم بتاتاہے انہوں نے بنی اسرائیل کو شرک سے روکا اور انہیںتوحید پر قائم رکھناچاہا مگر انہوں نے ہارون ؑ کی بات ماننے سے انکار کردیا۔یہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا والا بھی ہاورن ؑکے شرک کرنےکے واقعہ کو غلط قرار دیتاہے اور اس سے یہ استدلال کرتاہے کہ بائیبل میں کئی واقعات بعد میں بڑھا دیئے گئے ہیں (انسائکلوپیڈیا برٹینیکا جلد ۴ زیر لفظ CALF THE GOLDEN وجلد ۱۵ زیر لفظ موسیٰ)۔تورات کے مطالعہ سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ پرجاتے ہوئے بنی اسرائیل سے وقت کی کوئی تعیین نہیں کی تھی۔بلکہ صرف اتنا کہا تھا کہ ’’جب تک ہم لوٹ کر تمہارے پاس نہ آجائیںتم ہمارے لئے یہیںٹھہرے رہو۔‘‘ (خروج باب ۲۴ آیت ۱۴ ) اورپھر وہ ’’پہاڑ پر چالیس دن اور چالیس رات رہا۔‘‘ (خروج باب ۲۴ آیت ۱۸ ) لیکن موسیٰ ؑکے پہاڑ پرجانے کے بعد جب بنی اسرائیل نے ان کے آنے میں دیر محسوس کی تو انہوں نے ہارون سے اپنے لئے بچھڑا بنوالیا۔قرآن کریم اس کے خلاف یہ کہتاہے کہ موسیٰ تیس راتوں کے وعدہ سے گئے تھے مگر بعد میں اللہ تعالی ٰنے ان پر احسان فرماکر دس راتیں اور اپنے ساتھ ہم کلام ہونےکا شرف عطافرما دیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً (الاعراف :۱۴۳) یعنی ہم نے موسیٰ سے تیس ر اتوں کاوعدہ کیا تھا۔مگر پھر ہم نے دس راتیںاور بڑھاکر انہیں تکمیل تک پہنچا دیا۔اور