تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 553
چنانچہ بائیبل کہتی ہے۔’’ اور اس نے ان سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدایوں فرماتا ہے کہ تم اپنی اپنی ران سے تلوار لٹکا کر پھاٹک پھاٹک گھوم گھوم کر سارے لشکر گاہ میںاپنے اپنے بھائیوں اور اپنے اپنے ساتھیوں اور اپنے اپنے پڑوسیوں کو قتل کرتے پھرو۔او ربنی لاوی نے موسی ٰکے کہنے کے موافق عمل کیاچنانچہ اس دن لوگوں میں سے قریباًتین ہزار مرد کھیت رہے۔‘‘ (خروج باب ۳۲ آیت ۲۷،۲۸ ) پھرموسیٰ ؑنے خدا سے درخوست کی کہ۔’’ ان لوگوں نے بڑا گناہ کیا کہ اپنے لئے سونے کادیوتابنایا اور اب اگر تو ان کا گناہ معاف کردے تو خیر ورنہ میرا نام اس کتاب میںسے جو تونے لکھی ہے مٹادے۔‘‘ (خروج باب ۳۲ آیت ۳۲ ) مگر ’’خداوند نے موسیٰ سے کہاکہ جس نے میرا گناہ کیاہے میں اسی کے نام کو اپنی کتاب میںسے مٹائوں گا۔‘‘ (خروج باب ۳۲ آیت ۳۳ ) اس فتنہ کو فرو کرنے کے بعد وہ پھر پہاڑ پرگئے تو خدا تعالیٰ نے ان کوحکم دیاکہ ’’ہارون کو مقدس لباس پہنانا اور اسے مسح اور مقدس کرنا۔تاکہ وہ میرے لئے کاہن کی خدمت کو انجام دے اور اس کے بیٹوں کو لاکر ان کو کرتے پہنانا اور جیسے ان کے باپ کو مسح کرے ویسے ہی ان کو بھی مسح کرنا تاکہ وہ میرے لئے کاہن کی خدمت کو انجام دیں۔اور ان کا مسح ہونا ان کے لئے نسل درنسل ابدی کہانت کا نشان ہوگا۔اور موسیٰ نے سب کچھ جیسا خداوند نے اس کو حکم کیا تھا اس کے مطابق کیا۔‘‘ (خروج باب ۴۰ آیت ۱۳ تا۱۶ ) اسی طرح گنتی باب ۳ میں بھی ذکر آتاہے کہ ہارون اور اس کے بیٹوں کو بنی لاوی کی کہانت سپرد کرکے ان کانام ہمیشہ کے لئے قائم کردیاگیا۔بائیبل کے ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ جہاں اور لوگوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا اور مجرموں کو قتل کی سزائیں دی گئیں وہاں حضرت ہارون علیہ السلام پر بجائے کسی ناراضگی کا اظہار کرنے کے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ ہارون کو مقدس لباس پہنایاجائے اور نہ صرف اس کی عزت افزائی کی جائے بلکہ اس کی تمام اولاد کو بھی قابل اعزاز سمجھا جائے اور عبادت گاہوں کی نگرانی کاکام ان کے سپرد کیاجائے اب کیاایک مشرکانہ فعل کا یہی نتیجہ ہوا کرتاہے اور