تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 555

یوں اس کے رب کاچالیس رات کا وعدہ اس سے پورا ہوا۔ان دونوں بیانات میںسے قرآنی بیان صاف طورپر سچامعلوم ہوتاہے۔کیونکہ تبھی تو بنی اسرائیل ان کی غیر حاضری میں گھبراگئے۔ورنہ اگر غیر معین وقت ہوتا تو ایک مہینہ کچھ زیادہ وقت نہیںتھا کہ اس عرصہ میں وہ گھبرانے لگ جاتے۔ان میں گھبراہٹ اسی لئے پیدا ہوئی کہ موسیٰ ؑ تیس راتوں کا وعدہ کرگئے تھے مگر تیس راتیں گذرنے کے بعد واپس نہیںآئے۔معلوم نہیںوہ کہاں غائب ہوگئے ہیں۔سامری نے موسیٰ ؑکی اس غیر حاضری سے فائدہ اٹھایا اور قوم میں فتنہ کھڑاکردیا۔حضرت ہارون علیہ السلام نے اس موقعہ پر جو یہ کہا کہ يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ یعنی اے میری قوم تمہیں اس بچھڑے کے ذریعہ ایک آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ تمہاری اصل آزمائش کا وقت اب آیا ہے گویا فرعون کے عذاب اس آزمائش کے مقابل پر بالکل ہیچ تھے کیونکہ و ہ آزمائش دشمن کی طرف سے تھی جس میں قدرتاً سب لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیںلیکن جب اندرونی فتنہ کھڑاہو تو کئی کمز ور طبائع ڈانوانڈول ہوجاتی ہیں۔پس حضرت ہارون علیہ السلام اپنی قوم کو توجہ دلاتے ہیںکہ بے شک پہلے بھی تمہارے سامنے مختلف آزمائشیںآتی رہی ہیںمگر اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ تمہاری آزمائش کا اصل وقت اب آیا ہے اور اب دنیاپرظاہر ہو جائےگا کہ تم میںسے کون سچے دل سے ایمان لایاتھااور کون اپنے دعویٰ ایمان میںجھوٹاتھا۔اس سے معلوم ہوا کہ اندرونی فتنوں کوکبھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ پوری تندہی سے ان کامقابلہ کرنا چاہیے۔کیونکہ خطرے والا فتنہ وہی ہوتاہے۔خواہ قوم کتنی بھی تھوڑی ہو اگر اندرونی فتنہ اس میں نہ ہو تو دشمن اسے مٹانہیںسکتالیکن اگر اندرونی فتنہ پیدا ہو تو پھرتباہی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس جگہ ایک مختصر سانوٹ سامری کے متعلق بھی دے دینا ضروری معلوم ہوتاہے میرے نزدیک سامری کسی خاص شخص کانام نہیں بلکہ یہ ایک صفاتی نام ہے جو اب آہستہ آہستہ عَلم بن گیا ہے۔سمر اصل میں کیل ٹھونکنے کو کہتے ہیں۔اور سامر اس شخص کوکہتے جوکیل ٹھونکتا ہے چنانچہ لغت میں لکھاہے سمر کے معنے ہوتے ہیں اَوْثَقَہٗ وَ شَدَّہٗ بِالْمِسْمَارِ اس نے کسی چیز کے بناتے وقت اس کی مضبوطی کا خاص خیال رکھا۔اور اسے کیلوںسے جڑدیا پس لوہار ترکھان سنار اورمعمار وغیرہ سب سامر کہلائیں گے۔معلوم ہوتاہے بنی اسرائیل میں آہن گر ی نجاری معمار ی اور سنار وغیرہ کاکام کرنےوالے کچھ لوگ تھے جن کو اپنے پیشہ کی مناسبت کے لحاظ سے سامرہ کہنے لگ گئے تھے انہی پیشہ وروں میں سے یہ کوئی فتنہ پرداز شخص تھاجس نے توحید کے خلاف ایک خطرناک فتنہ کھڑا کردیا۔اس تحقیق کے