تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 552

لے آئو چنانچہ سب لوگ ان کے کانوںسے سونے کی بالیاںاتار اتار کر ان کو ہارون کے پاس لے آئے او راس نے ان کو ان کے ہاتھوں سے لےکر ایک ڈھالا ہوا بچھڑابنایا جس کی صورت چھینی سے ٹھیک کی تب وہ کہنے لگا اے اسرائیل یہی تیراوہ دیوتاہے جو تجھ کو ملک مصر سے نکال کر لایا ‘‘ (خروج باب ۳۲آیت ۱تا۴) پھر لکھا ہے کہ ہارون نے اس بچھڑے کے لئے قربان گاہ بنائی اور اسے بنی اسرائیل کامعبود قرار دیا چنانچہ لکھاہے۔’’یہ دیکھ کر ہارون نے اس کے آگے ایک قربان گاہ بنائی اور اس نے اعلان کردیا کہ کل خداوند کے لئے عید ہوگی اور دوسرے دن صبح سویرے اٹھ کر انہوںنے قربانیاں چڑھائیں۔اور سلامتی کی قربانیاں گذرانیں۔پھر ان لوگوںنے بیٹھ کر کھایا پیا اور اٹھ کر کھیل کود میں لگ گئے۔‘‘ (خروج باب ۳۲آیت ۵،۶) ایک ادنیٰ سی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتاہے کہ جس سے خدا بولاکرتا تھا وہ ایک بچھڑے کو خدا کس طرح قرار دے سکتاہے۔ایک شخص جو اپنے بھائی سے ہم کلام ہوتاہے وہ کبھی ایسی غلطی کر سکتاہے کہ ایک گیدڑ کو اپنا بھائی سمجھ لے مگربائیبل جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ موسیٰ پر نازل ہوئی تھی وہ کہتی ہے کہ ہارون شرک میں شامل ہوگیا تھا۔لیکن عقل سلیم نے جب بھی اس پر غور کیا یہی فیصلہ کیا کہ اس بارہ میں موسیٰ ؑپر نازل ہونے والی بائیبل جھوٹی تھی۔لیکن دوہزار سال بعد نازل ہونے والا قرآن سچاہے۔بلکہ اگربائیبل کو ہی غور سے دیکھا جائے تو اس کی اندرونی شہادت بھی اس واقعہ کو غلط قرار دیتی ہے۔چنانچہ بائیبل بتاتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ لوگوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی ہے تو وہ سخت غیظ و غضب کی حالت میں پہاڑ سے واپس تشریف لائے اور بچھڑے کو آگ میں جلاکر اسے خاکستر کیا اور اس کی خاک پانی پر چھڑک کربنی اسرائیل کو پلوائی۔چنانچہ بائیبل میں لکھا ہے۔’’ اس نے اس بچھڑے کو جسے انہوں نے بنایا تھا لیا اور اسکو آگ میں جلا یا۔اور اسے باریک پیس کر پانی پر چھڑکا اور اس میں سے بنی اسرائیل کو پلوایا۔‘‘ (خروج باب ۳۲ آیت ۲۰ ) پھر موسیٰ ؑنے اس کی سزا میں حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قریبی کو قتل کرے اور اس طرح تین ہزار آدمی مارے گئے