تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 544
لیکن یہ امر ظاہر ہے کہ لچن خود کوئی اچھا کھانا نہیں ہے بلکہ قحط کے ایام میں مجبوراً اسے لوگ کھاتے ہیں۔اس کے برعکس کھمب اعلیٰ درجہ کے کھانوں میں سے ہے اور گراں قیمت پر فروخت ہوتی ہے اور خاص طورپراسے امراء کے لئے بویاجاتاہے۔اور فرانس میںتو اس کی اس قدر کھپت ہے کہ پیرس میںایک زمیندار دن میں تین ہزار پونڈ تک کھمب منڈی میں فروخت کرنےکے لئے بھیجتاہے اور پھر ہے بھی یہ جلداگنے والی چیز چنانچہ انگریزی میں اس چیز کو جو جلد ہوجانے والی ہو مشروم گروتھ یعنی کھمب کی طرح پیدا ہونے والی کہتے ہیںاور ایسے لوگوں کے لئے جو کھانے سے تنگ ہوں ایسی ہی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو جلد اگ آئیںاور جلد استعمال میںآسکیں اب کیا یہ صاحبان بصیرت کے لئے عجیب بات نہیں کہ بائیبل کے کثیر نسخوں اور علم طبیعات کے ماہروں کی امداد کے باوجودیورپ بیسویں صدی میں جس نتیجہ پر من کے متعلق پہنچاہے اور وہ بھی ناقص صورت میں۔اس کی قرآن کریم میں آج سے تیرہ سو سال پہلے نہایت جامعیت کے ساتھ تو ضیح کردی گئی تھی۔میں جہاں تک مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دشت سینا میں کھمب ترنجبین اور ایسی ہی اور چیزیں جو جلد تیار ہوجاتی تھیں پیدا کردیںجن سے بنی اسرائیل کو بآسانی غذاملنے لگی اسی طرح تلیئر وغیرہ کثرت سے آگئے کیونکہ ان علاقوں میں ٹڈی بہت ہوتی ہے اور تلیئر زیادہ تر ان مقامات کو پسند کر تاہے جن میںٹڈی ہو کیونکہ وہ ٹڈی بڑے شوق سے کھاتاہے اور چونکہ اس کے لئے انہیںکوئی محنت نہیںکرنی پڑتی تھی اس غذاکانام من یعنی احسان الٰہی سے ملنے والی غذارکھا گیا۔وہ ایک قسم کی غذانہ تھی بلکہ کئی قسم کی غذائیں تھیں۔کیونکہ حدیث کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ کئی طرح کامن تھا۔ہاں سب میں ایک مشابہت تھی اور وہ یہ کہ غذائیں ہل چلاکر اور محنت کرکے بنی اسرائیل کو پیدا نہیں کرنی پڑتی تھیں۔لیکن چونکہ غذائیں اور تلیئر وغیرہ جو اس وقت کثرت سے جنگل میں آگئے تھے شکم میں قبض پیدا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ترنجبین بھی کثرت سے پیداکردی جسے دوسری غذائوں میں ملا کر کھانے سے ان کی صحت درست رہتی تھی۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ من جس کا کثرت سے ان ایام میں پیدا ہونا ایک معجزہ تھا لیکن خود اس کا وجود اس دنیا کی چیزوں میں سے تھا۔وہ ایسی غذا تھی جسے ایک عرصہ تک کھایا جاسکتاتھا۔اور اس کی مصلح ترنجبین بھی ساتھ ہی پیدا کردی گئی تھی تاکہ جنگل کی خشک غذا صحت کو نقصان نہ پہنچائے۔اس تشریح کے ساتھ سب سوال حل ہوجاتے ہیں یہ بھی کہ من کو لوگ دیر تک کس طرح کھاتے رہے ؟ اور یہ بھی کہ وہ سال بھر کس طرح ملتی رہتی تھی اور یہ بھی کہ وہ تیل کی طرح تھی اور اس سے روٹیاں بھی پکتی تھیں اور پھلکیاں