تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 535
کُلُّ مَایَمُنُّ اللہُ بِہٖ مِمَّا لَا تَعَبٌ فِیْہٖ وَلَا نَصَبٌ یعنی ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کسی شخص کو محنت اور مشقت کے بغیر محض اپنے فضل سے عطافرمائے۔وہ مَنْ کہلاتی ہے۔اسی طرح لکھاہے۔کُلُّ طَلٍّ یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ عَلیٰ شَجَرٍاَوْ حَجَرٍ وَ یَحْلُوْ وَ یَنْعَقِدُ عَسَلًا وَ یَجِفُّ جَفَافَ الصَّمْخِ کَالسِّیْرَ خُشْت وَالتَّرَنْجَبِیْنِ یعنی ہروہ رطوبت جو آسمان سے درختوں اورپتھروں پر گرتی ہے اور وہ میٹھی ہوتی ہے اور پھر شہد کی طرح گاڑھی ہوجاتی ہے اورگوند کی طرح سوکھ جاتی ہے جیسے شیرخشت اور ترنجبین اسے بھی من کہتے ہیں۔(اقرب) السلویٰکے معنے ہیں اَلْعَسَلُ۔شہد۔کُلُّ مَا سَلَّاکَ ہر وہ چیز جو انسان کی تسلی کا موجب ہو۔طَائِرٌ اَبْیَضُ مِثْلُ السُّمَانَی بٹیر یاتلیر کی مانند سفیدپرندے وقِیْلَ السَّلْویٰ اللَّحْمَ اور بعض نے کہا ہے کہ سلوٰی گوشت کو کہتے ہیں (اقرب)۔مفردات میں لکھاہے کہ السَّلْویٰ اَصْلُھَا مَا یُسَلِّی الْاِنْسَانَ یعنی سلویٰ کے اصل معنے اس چیز کے ہیں جو انسان کو تسلی دلادے۔تفسیر۔بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر کنعان کی طرف آئے تو جس علاقہ میں سے انہیں گذرنا پڑا وہ بہت غیر آباد تھا اور دور دراز فاصلہ پر بعض شہر آباد تھے۔اب تک یہ علاقہ ایسا ہی ہے اور اب بھی اس علاقہ سے گذرنا کوئی آسان کام نہیں بے شک ا س علاقہ میں اب ریل جاری ہوگئی ہے اور سفر میں سہولتیں پیدا ہوگئی ہیںلیکن اس کی غیر آبادی میں اب بھی کوئی فر ق نہیںآیا۔کیونکہ یہ علاقہ آبادی کے قابل زمینوں سے خالی ہے۔اور بے آب وگیا ہ میدانوں پر مشتمل ہے۔ترکوں نے جنگ عظیم میں بہت کوشش کی کہ کسی طرح مصر میں داخل ہوکر انگلستان اور ہندوستان کے تعلقات قطع کردیں لیکن پانی کی دقت اور سامان خوردو نوش کی کمی کی وجہ سے عقلوںکو حیرت میں ڈال دینے والی قربانی کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔انگریزوں نے بھی شروع میں بہت زور مارا لیکن خشک اور چٹیل میدانوں کی وجہ سے وہ بھی سویز کے راستہ سے فلسطین میں داخل نہ ہوسکے۔آخر جنرل ایلنبیؔ نے نیل سے پانی لے کر سویز کے اوپر سے نلوں کے ذریعہ سے پانی گذارا اور اس علاقہ کو جو بڑے شہر وں کے لئے ناقابل تھاقابل سکونت بنادیا۔صلیبی جنگوں کے وقت جب فلسطین اورشام کے محاذپر یورپ کی تمام اقوام کے منتخب بہادر اس نیت سے ڈیرے ڈالے پڑے تھے کہ اسلام کے بڑھنے والے سیلاب کو روک دیں اس وقت بھی دشت سینا مسلمانوں اور مسیحیوں سے راستہ دینے کاٹیکس لیتارہا تھا۔نویں صدی کے آخر اور دسویںصدی کے ابتدائی حصہ میں نہ معلوم کتنے اسلامی اور مسیحی لشکر پانی نہ ملنے اورکھانے کی کمی کے سبب اس دشت میں تباہ ہوگئے تھے۔پانی کی کمی کے سبب گذرنے والے قافلوں کو لازماًان چشموں یا تالابوں کے پاس سے گذرنا پڑتا تھا جو کہیں