تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 536
کہیں اس دشت میں پائے جاتے تھے اور اس وجہ سے جو فریق بھی غالب ہوتاتھا۔اسے دوسرے فریق کے آدمیوں کو مارنے کاایک آسان بہانہ مل جاتاتھا۔کیونکہ تھوڑے سے آدمی ان چشموں یاتالابوں پر مقرر کردینے سے بھی اس بات کی کافی ضمانت ہوجاتی تھی کہ حریف کے آدمی نقصان اٹھائے بغیر مصر سے فلسطین کی طرف نہیںجاسکتے۔چنانچہ اسامہ بن منقذاپنی کتاب الاعتبار میں لکھتے ہیں کہ الجعفر نامی چشمہ جو مصر اور فلسطین کے درمیان تھا کسی وقت فرنگیوں سے خالی نہیںہوتاتھا۔ہمیشہ اس جگہ سے لوگوں کو بچ کر جانا پڑتا تھا۔ایک دفعہ انہیںسیف الدین ابن سالار وزیر مصر نے شاہ نورالدین کے پاس بھیجا کہ وہ طبریہ پر حملہ کریں تو ہم مصر سے غزہ پر حملہ کرکے فرنگیوں کو وہاں قلعہ بنانے سے روک دیں۔وہ کہتے ہیںکہ ہم الجعفرچشمہ پر پہنچے تو اتفاقاً اس وقت فرنگی وہاں موجود نہ تھے۔لیکن طے قبیلہ میں سے بنوابی خاندان کے کچھ لوگ وہاں تھے جن کے جسم پر چمڑے کے سوا گوشت کانام ونشان تک نہ تھا۔آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں اور بالکل بدحال ہو رہے تھے وہ کہتے ہیںمیں نے ان سے پوچھاکہ تم لوگ یہاں کس طرح گذارہ کرتے ہو۔انہوں نے جواب دیا کہ مردار کی ہڈیاں ابال کر اس پرگذارہ کرتے ہیں اور کوئی چیز کھانے کی یہاں نہیں ہے۔ان کے کتے بھی اسی پر گذارہ کرتے تھے۔ہاں گھوڑے چشمے کے ارد گرد کی گھاس پر گذارہ کرتے تھے۔اسامہ لکھتے ہیںکہ میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تم لوگ یہاں اس حالت میں کیوں پڑے ہو۔دمشق کی طرف کیوں نہیںچلے جاتے۔توانہوں نے جواب دیا کہ اس خیال سے کہ وہاں کی وبائوں سے ہمیں نقصان نہ پہنچے۔اسامہ ؔ حیرت کا اظہار کرتے ہیںکہ کیسے بیوقوف لوگ تھے ان کی اس وقت کی حالت سے بڑھ کر وباء کیا نقصان پہنچاسکتی تھی۔(کتاب الاعتبارلابن منکز ۶۰۷) غرض دشت سینا ایک ایسا خطرناک علاقہ ہے کہ بڑی جماعتوں کے لئے بھی بغیر خاص انتظام کے اس میں سے گذرنا مشکل ہے اور اس میں قیام کرنا تو اوربھی مصیبت ہے۔پھر بنی اسرائیل جن کے بیس سال سے زائد عمر کے نوجوانوں میں سے جنگی خدمت کے قابل مردوں کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے (خروج باب ۱۲ ٓیت ۳۷) (یہ تعدادبائیبل کی روسے ہے ورنہ ہم اس کو صریح غلط سمجھتے ہیں۔قرآن کریم اس بارہ میں یہ فرماتا ہے کہ وَھُمْ اُلُوْفٌ (بقرۃ:۲۴۴) وہ ساری قوم اس وقت ہزاروں کی تعدادمیں تھی اور قرآنی بیان ہی عقل کے مطابق اور سچاہے )اور جو بے سروسامانی کی حالت میں مصر سے بھاگے تھے اس علاقہ میں سے کس طرح گذرے اور کس طرح اڑتیس سال تک اس علاقہ میں انہوں نے بسر کیا ؟ یہ ایک ایساسوال ہے جوصدیوں سے دنیا کو حیرت میں ڈال رہاہے۔بائیبل نے اس کا جواب من کے نزول اور حورب کی چٹان میں بارہ چشموں کے پھوٹنے کے معجزہ سے دیاہے۔وہ بتاتی ہے