تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 530

تَزَكّٰى ؒ۰۰۷۷ (اور) وہ ان میںرہتے چلے جائیں گے اور یہ ان شخص کا مناسب بدلہ ہے جو پاکیزگی اختیار کرتاہے۔تفسیر۔وہی جادوگر جو پہلے فرعون سے بھیک مانگ رہے تھے ایمان نصیب ہوتے ہی اتنے دلیر ہوگئے کہ فرعون کے سامنے کھڑے ہوگئے اور اسے کہہ دیا کہ ہم تیری بات سننے کے لئے تیار نہیں ہم تو اسی بات کو مانیںگے جو ہمارے خد ا کی طرف سے آئےگی تو اگر کچھ کر سکتاہے تو یہی کہ دنیا کی زندگی کو منقطع کردے سو بے شک کردے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہمیں خوشی ہے کہ خدا نے اپنے فضل سے ہمیں حق کی شناخت کی توفیق عطافرما دی ہے اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیںکفر کی طرف واپس نہیںلوٹاسکتی۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ایمان کامل کسی کو نصیب ہو جائے تو پھر دنیا کی مشکلات اور دنیا کی تکالیف اس کی نگاہ میںبالکل بے حقیقت ہوجاتی ہیںاحادیث میںایک واقعہ بیان ہوا ہے جس سے پتہ لگتاہے کہ ایمان کی کیا کیفیت ہوتی ہے اور جب وہ کسی شخص کو سچے طور پر حاصل ہوجائے تو اس کی نگاہ میںدنیا کتنی بے حقیقت ہوجاتی ہے احد کی جنگ میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس کے نتیجہ میںلوگوں میں یہ مشہور ہوگیا کہ محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں۔تمام مدینہ میںایک کہرام مچ گیا۔اور عورتیں اور بچے بلبلاتے اور چیختے ہوئے میدان جنگ کی طرف دوڑپڑے شہر سے نکلنے والی عورتوں میں ایک ستر سالہ بڑھیا بھی تھی اس کی بینائی اتنی کمزور ہوچکی تھی کہ دور کی چیز کو وہ نہیںدیکھ سکتی تھی اور قریب آجانے پر بھی وہ زیادہ تر دوسرے کو اس کی آواز سے ہی پہچانتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس وقت میدان جنگ سے بخیرت واپس تشریف لا رہے تھے اور آپ کی خاص طورپر حفاظت کرنے کے لئے ایک انصاری صحابی ؓ آپ کے ساتھ ساتھ چلے آرہے تھے۔اور وہ اس فخر میں آپ کے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے تھے کہ ہم خداکے رسول کو میدان جنگ سے زندہ و سلامت لے آئے ہیں۔ان کے ایک دوسرے بھائی اسی جنگ میں شہید ہوچکے تھے جب مدینہ سے عورتوں اور بچوں کا ایک ریلا روتا اور بلبلاتاہو انکل رہا تھا تو اس صحابیؓ نے دیکھا کہ ان کی سترسالہ بڑھیا ماں بھی بے تابی کے ساتھ چلی آرہی ہے اس نابینا بڑھیا کے قدم لڑکھڑارہے تھے اسے رستہ نظرنہیں آتا تھا۔اور وہ پریشانی کے عالم میںادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔جب اس صحابی ؓ نے اپنی ماں کو دیکھاتو انہوں نے کہا۔یارسول اللہ ! میری ماں یارسول اللہ !میری ماں ! مطلب یہ تھاکہ اس کا جوان بیٹااس بڑھاپے کی عمر اورکمزوری میں مارا گیا ہے۔آپ اس کی طرف توجہ فرمائیں تاکہ اس کے دل کوتسکین حاصل