تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 531
ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمبھی اس بات کو سمجھ گئے۔وہ بڑھیا قریب آئی تو آپ نے فرمایا۔میری اونٹنی کو کھڑاکرو۔پھر آپ نے اس عورت کو مخاطب کیا اور فرمایا۔اے خاتون !میں تمہارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتاہوں۔کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے بیٹے کو شہادت کا مرتبہ دیا وہ تمہیںصبر دے اور تمہارے اس غم کو دور کرے۔نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ عورت حیران ہوئی کہ یہ آواز مجھے کہاںسے آرہی ہے وہ تو یہی سمجھتی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں اور آواز تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھتے دیکھتے اس کی نظر آپ کے چہرہ پر پڑ گئی۔اور اس نے پہچان لیا کہ آپ ہی ہیںاور آپ ہی اس وقت مجھ سے بول رہے ہیں۔تو جیسے عورت خفگی میں بولتی ہے بڑی تنک کر کہنے لگی۔یارسو ل اللہ آپ بھی کیسی باتیں کرتے ہیںیارسول اللہ آپ زندہ آگئے میرے بیٹے کا یہاں کیا ذکر ہے۔سوال تو آپ کی زندگی کا تھا۔سو الحمدللہ کہ آپ خیریت سے آگئے۔(سیرة النبی الابن ہشام جلد ۳ شأن المرأة الدیناریة ) تو حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم کوخدامل جائے اور اگر اپنے ایمان کے نتیجہ میں اور ہرقسم کے خطرات کو مول لینے کے بعد خدا کا دامن ہمارے ہاتھ میںآجائے توہمیں بڑی سے بڑی مصیبت کی بھی پرواہ نہیںہوسکتی رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیںکہ اگر کسی شخص کو سچے دل کے ساتھ حلاوت ایمان نصیب ہو جائے تو وہ اس کے بعد اگر اس کو آگ میںبھی ڈال دیا جائے تو وہ اس کو بہت زیادہ پسند کرےگا بہ نسبت اس کے کہ وہ اپنے عقیدہ کو چھوڑدے۔(بخاری کتاب الایمان باب من کرہ ان یعود فی الکفر) ایک اور حدیث میںآتاہے کہ پرانے زمانہ کی امتوںمیںسے جن کو ایمان نصیب ہوتا تھا لوگ ان کے سروں پر آرے رکھ کر انہیںچیر دیتے تھے اور وہ کٹ کر دوٹکڑے ہوجاتے تھے لیکن اپنے ایمان پر قائم رہتے تھے(مسند احمد بن حنبل مسند البصر بین )۔صحابہ ؓ میں بھی اس کی نظیریں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں۔حضرت بلال ؓ کو ہی دیکھ لو۔انہیںبھوکا رکھاجاتا تھا اس کے بعد ان کو تپتی ہوئی ریت پر لٹاتے۔بڑا ساگرم پتھر ان کے سینہ پررکھتے اور پھر ایک آدمی ان کے سینہ پر چڑھ جاتااور کودتااور کہتاکہو محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے ہیں اورلات مناۃ اورعزیٰ خداکے شریک ہیں۔زبان ان کی لٹک جاتی تھی گلاان کا خشک ہوجاتا تھا مگر وہ یہی کہتے جاتے تھے کہ اَشْھَدُاَنْ لَااِلَہَ اِلَّا اللہُ اور جب بالکل ہی بے دم ہو جاتے تو فرماتے اَحَدٌ اَحَدٌ یعنی خداایک ہی ہے(اسد الغابة معرفة الصحابة حضرت بلال بن رباح)۔غرض اس قربانی کا صحابہؓ نے جو نمونہ د کھایا تاریخ اس کے ذکر سے بھری پڑی ہے۔یہی نمونہ ان جادوگروں نے دکھایا اور فرعون سے صاف صاف کہہ دیا کہ ہم تیری بات سننے کے لئے تیار