تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 526

ہونا ہے پس جس قدر تدابیر اختیار کر سکتے ہو اختیار کرو۔قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِيَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ ( اس پر ان لوگوں نے جن کو موسیٰ کے مقابلہ کے لئے فرعون نے جمع کیا تھا) کہا کہ اےموسیٰ یاتو (اپنی تدبیر) پھنک اَلْقٰى ۰۰۶۶ یعنی ظاہرکر یاہم تجھ سے پہلے پھنکیں۔تفسیر۔ساحر موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے تو تیار ہوگئے۔مگر باوجود اس کے کہ فرعون ان کے ساتھ تھا اور اس وجہ سے ان کے اندر کبر اور غرور ہونا چاہیے تھا انہوںنے نہایت ادب کے ساتھ کہا کہ اے موسیٰ بتایئے آپ ابتدا کریں گے یا ہم ابتداء کریں۔مثنوی رومی والوں نے اس کے متعلق ایک نہایت ہی لطیف بات لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ان کایہی ادب تھا جو ان کے کام آیا اور اللہ تعالیٰ نے جونکتہ نوازہے انہیں دولت ایمان سے بہرہ ور فرما دیا۔(مثنوی مولوی معنوی صفحہ ۱۸۵) قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ (تب موسیٰ نے) کہا (بہتر یہ ہے) کہ تم اپنی تدبیر پھینکو (یعنی ظاہر کرو) پس انہوں نے جو تدبیر کی اس کے نتیجہ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى۰۰۶۷ میں ان کی رسیاں اور ان کے سونٹے موسیٰ کو ان کے فریب کی وجہ سے یوں نظر آئے گویا کہ وہ دوڑ رہے ہیں۔تفسیر۔فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى سے معلوم ہوتاہے کہ جادو گروںکی ان رسیوں اور سونٹوں میں یا تو پارہ تھا یا لچک دار پیچ تھے جن کے دبانے کی وجہ سے وہ ہلنے لگ جاتے تھے۔یورپ سے آجکل ایسی چیزیں بہت کثرت سے آتی ہیں۔معلوم ہوتاہے کہ مصر میں بھی ایسی صنعت جاری تھی اور اسی کو جادوگروں نے مقابلہ کے لئے اختیار کیا۔