تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 525

يُرِيْدٰنِ اَنْ يُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ بھی نہیں صرف جادوگر ہیں(جو) یہ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہاری زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں۔يَذْهَبَا بِطَرِيْقَتِكُمُ۠ الْمُثْلٰى ۰۰۶۴ اور تمہارے اعلیٰ درجہ کے مذہب کو تباہ کردیں۔حلّ لُغَات۔یُسْحِتَکُمْ۔اَسْحَتَسے مضارع کا صیغہ ہے اور اَسْحَتَ کے معنے ہوتے ہیں اِسْتَأْصَلَہٗ اس کوجڑ سے اکھیڑدیا (اقرب ) پس یُسْحِتَکُمْ کے معنے ہوںگے تم کو ہلاک کردےگا۔جڑ سے اکھیڑ دےگا۔ألْمُثْلی کے معنے افضل۔اعلیٰ (اقرب) تفسیر۔قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یہ فرعون کے ساتھیوں کا قول ہے جنہوں نے لوگوں کو جوش دلانے کے لئے کہا کہ یہ تو چاہتے ہیں کہ تم کو اپنے فریب سے ملک سے نکال دیں اور تمہارا مذہب جو سب سے افضل ہے اس کو مٹادیں گویا دنیوی اور مذہبی دونوں طریق سے انہوں نے لوگوں کو اشتعال دلانا چاہا۔فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ پس چاہیے کہ تم بھی اپنی تدبیریں سوچ لو پھر سب کے سب ایک جماعت کی شکل میں آئو اور جو( شخص) آج جیتے گا اسْتَعْلٰى ۰۰۶۵ وہ ضرور بامراد ہوگا۔تفسیر۔آج کل دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ اس غلط فہمی میںمبتلا ہے کہ اچھے مقصد کے لئے خواہ کیسے ہی ناجائز ذرائع استعما ل کرنے پڑیں جائز ہوتے ہیں حالانکہ ناجائز ذرائع کے ساتھ کسی چیز کے حصول کی کوشش ہی اس بات کاثبوت ہوتاہے کہ اس چیز کا صداقت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیںیہی حربہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے استعمال کیا اور لوگوں کو اکسایا کہ تم سے جو کچھ دھوکا اورفریب ممکن ہو اس سے کام لو اور جس قدر چالبازی کرسکتے ہوکرو تمہارا مقصد یہ ہے کہ تم نے موسیٰ پرغلبہ حاصل کرنا ہے پس یہ مت دیکھو کہ تمہاری تدابیر کیسی ہیں یہ دیکھو کہ تم نے کامیاب