تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 487

لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ آسمانوںاور زمین میں جو کچھ ہے او روہ بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اسی کاہے۔نیز (وہ بھی ) جو الثَّرٰى ۰۰۷ گیلی مٹی کے نیچے ہے۔حل لغات۔الثریٰ التُّرَابُ النَّدِیُّ گیلی مٹی الارض زمین۔(اقرب) تفسیر۔اس میں عرش پرقائم ہونے کی تشریح کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ دنیا کے بادشاہ جب اپنے تخت حکومت پر بیٹھتے ہیں توان کی حکومت محدود ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی حکومت آسمانوںپر بھی ہے زمیں پر بھی ہے اور زمین کے نچلے طبقوں پر بھی ہے پس اس کے احکام کورد کرنا دنیا کی چوٹی سے لے کر اس کے نچلوں سے نچلے طبقہ تک ساری مخلوقات کو اپنا مخالف بناناہے۔اسی طرح اس میںیہ بھی اشارہ ہے کہ جو لوگ اس کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے اورجوکچھ زمین کے نچلے طبقات میں ہے سب کو ان کی تائید میںلگادیتاہے۔وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ يَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى۰۰۸ اگر تو اونچی آوازسے بولے تو خداسکو بھی سنتاہے اور اگر آہستہ آواز سے بولے تو اس کو بھی سنتاہے۔کیونکہ وہ پوشیدہ بات کو بھی جانتاہے اور جو بہت ہی پوشیدہ ہوتی ہے( اسے بھی جانتاہے ) حل لغات۔تجھر تَجْھَرْ جَھَرَسے ہے اور جَھَرَ بِالْقَوْلِ کے معنے ہیں رَفَعَ بِہٖ صَوْتَہٗ بات کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کی (اقرب ) پس اِنْ تَجْھَرْ بِالْقَوْلِ کے معنے ہوںگے اے مخاطب اگر تو بات کرتے وقت اپنی آواز بلند کرے۔تفسیر۔یہ آیت پہلی آیت کی مزید تشریح ہے۔ظاہر ہے کہ جو بلندیوں کا مالک ہے وہ اونچی آواز کو بھی سنتاہے اورجوزمین کے نچلے طبقہ کامالک ہے وہ آہستہ آواز کو بھی سنتاہے۔ورنہ ان دونوں حصوں پرحکومت کس طرح کرسکتاہے۔