تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 488
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى ۰۰۹ اللہ (وہ ذات ہے کہ اس )کے سوا کوئی معبود نہیں اسکی بہت سی اچھی صفات ہیں۔حل لغات۔الاسمائُ اَلْاَسْمَاءُاسم کی جمع ہے اور اسم کے لفظ کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ابوالبقاء اپنی کتاب کلیات میںلکھتے ہیںأَ لْاِ سْم ذَاتُ الشَّیْءِ وَا لْاِسمُ اَیْضًا الصِّفَۃُ (اقرب) کہ اسم اس کو بھی کہیں گے کہ جو کسی چیز کی حقیقت اور ذات کوبیان کرے اوراس کوبھی کہیں گے جو اس چیز کی صفات کو بیان کرے۔الحسنی۔اَحْسَنُ۔سے مونث کا صیغہ ہے اور الحسن کے معنے ہیں عِبارَۃٌ عَنْ کُلِّ مُبْھِجٍ مَرْغُوْبٍ فِیْہِ ہروہ چیز یاحالت جو خوش کرے اور انسان کے دل میں اس کے لینے کی خواہش پیدا ہو پھر لکھاہے کہ حسن کا لفظ عام لوگوں کے استعمال میںان چیزوں کی خوبصورتی کے لئے استعمال ہوتاہے جن کو آنکھ دیکھ سکتی ہے لیکن قرآن مجید میںجن چیزوں کے لئے حسن کا لفظ استعمال ہواہے اس سے بصیرت کے ساتھ معلوم کئے جانے والا حسن مراد ہے۔(مفردات ) پس الاسماء الحسنیٰ کے معنے ہوںگے بہترین صفات۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ ہی آسمانوں کا مالک ہے اورخدا تعالیٰ ہی زمین کے نچلے طبقوں کابھی مالک ہے توپھر اور کوئی معبود ہو ہی نہیںسکتاکیونکہ اس کے سوااور کونسی جگہ رہ جائےگی جو اس معبود کی ملکیت ہوگی۔وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰىۘ۰۰۱۰ اور (اس کے ثبوت میںہم کہتے ہیںکہ ) کیا تیرے پاس موسیٰ کا واقعہ پہنچاہے (یانہیں) حلّ لُغَات۔الحدیث الْحَدِیْثُ الْخَبَرُ یَاْتِیْ عَلٰی الْقَلِیْلِ وَ الْکَثیْرِ یعنی حدیث کے معنے خبرکے ہیںخواہ وہ چھوٹی ہویابڑی (اقرب) تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ایک صاحب شریعت نبی تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعہ کو یہ بتانے کے لئے پیش کیاہے کہ ان کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے عرش سے دنیاپر روحانی حکومت کی تھی اور ان پر بھی کلام الٰہی نازل ہواتھا۔