تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 486
ہیںکیونکہ رحمٰن کا لفظ ان کے مذہب کے خلاف ہے مگر دنیا کا ذرہ ذرہ بتارہا ہے کہ خدا رحمٰن ہے۔بچہ پیدا ہوتا ہے تو کوئی نیکی کرکے تونہیںآتامگر خدتعالیٰ اس کی ماں کی چھاتیوں میں دودھ اتاردیتاہے اور یہ انعام بغیر کسی نیکی کے ہوتاہے۔اسی طرح جوانی تو پیدائش کے بڑے عرصہ بعد آتی ہے لیکن اس کے جسم کو سردی گرمی سے بچانے کے لئے کپڑے اور مکان کا سامان پہلے سے موجود ہوتاہے۔پس دنیاکا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت پر دلالت کررہا ہے۔اسی طرح ہر مذہب بھی اس کی رحمانیت کا ثبوت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام جب نازل ہوتاہے توکسی نیکی کے بدلہ میں نازل نہیںہوتابلکہ بطور احسان نازل ہوتاہے۔چنانچہ قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی قرآن کریم کے نزول کا ذکر ہے یہی فرمایاگیا ہے کہ قرآن کریم کور حمٰن خدا نے نازل کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ تو نہیںجانتا تھا کہ ایمان کیا ہوتاہے اورکتاب کیا ہوتی ہے پس قرآن جو تجھ پر نازل ہواہے نہ کسی ایمان کے نتیجہ میں نازل ہواہے اور نہ کسی کتاب پر عمل کرنےکے نتیجہ میں نازل ہوا ہے۔بلکہ محض اس محبت کی مخفی چنگاری کے بدلہ میںنازل ہواہے جوتیرے دل میں خدا کے لئے اس طرح سلگ رہی تھی جس طرح بچہ کے دل میںماں کے لئے محبت کی مخفی چنگاری سلگ رہی ہوتی ہے۔عرش کے متعلق یہ امر یاد رکھناچاہیے کہ عرش کوئی مادی چیز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات تنزلی کا نقطہء مرکزی ہے یعنی خدا تعالیٰ کی جو صفات بندوں سے تعلق رکھتی ہیں ان کو خدا تعالیٰ عرش پر سے ظاہر کرتاہے جس طرح بادشاہ اپنی رعایا کے لئے اپنے تخت حکومت پر سے احکام دیتے ہیں۔(عرش کی مفصل بحث کے لئے دیکھیں سورۃ یونس آیت ۴) چونکہ کلام الٰہی خدا تعالیٰ کی طرف سے مختلف قسم کے احکام پر مشتمل ہوتاہے اس لئے فرمایا اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى یہ قرآن ہے تورحمانیت کی صفت کے ماتحت یعنی انسانوںکی کسی خدمت کے نتیجہ میں نازل نہیںہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کے غیر محدود رحم نے بندوں کی ہدایت کے لئے نازل کیاہے مگر خدا کے رحمٰن ہونے کی وجہ سے یہ دھوکا نہ کھالینا کہ اس کلام کو رد کردینا معمولی بات ہے بلکہ یاد رکھنا کہ رحمٰن خدا نے اپنے تخت شاہی پر بیٹھ کر یہ اعلان کیاہے اور اس کو رد کرنا اس کی بادشاہت کا انکار کہلائے گا اور تمہیںسزا کامستحق بنادےگا۔