تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 485

بھی عرش کہتے ہیںاس وجہ سے کہ وہ بلند ہوتاہے اور عرش میںبلندی کے معنے پائے جاتے ہیں۔وَکُنِّیَ بِہِ عَنِ الْعِزِّ وَ الْسُّلْطٰنِ وَالْمَمْلِکَةِ اور عرش کے لفظ کو عزت اور غلبہ اور بادشاہت کے مفہوم کے اداکرنے کے لئے بھی استعمال کرلیا جاتاہے وَقَوْلُہ ذُوْالْعَرْشِ۔۔۔۔وَمَا یَجْرِیْ مَجْرَاہُ قِیْلَ ھُوَ اِشَارَةٌ اِلٰی مَمْلِکَتِہٖ وَ سُلْطٰنِہٖ لَا اِلٰی مَقَرٍّ لَہ یَتَعَالٰی عَنْ ذٰلِکَ اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لئے جو یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیںکہ وہ عرش والا ہے اس سے خدا تعالیٰ کی بادشاہت اور غلبہ کی طرف اشارہ کیا گیاہے نہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کاکوئی خاص تخت ہے جس پر وہ قرار فرماہوتاہے کیونکہ اس سے تجسم لازم آتاہے اور اللہ تعالیٰ تجسم سے پاک ہے (مفردات ) استویٰ۔اِسْتَوی الرَّجُلُ اِنْتَھٰی شَبَابُہُ وَ بَلَغَ اَشُدَّہُ اَوْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً وَاسْتَقَامَ اَمْرُہٗ یعنی جب استویٰ کا لفظ کسی انسان کے لئے استعمال کریں تو یہ معنے ہوں گے کہ وہ عین عنفوان شباب کو پہنچ گیا۔اور اس عمر کو جاپہنچاجبکہ اس کی ساری طاقتیں اور قوتیں پختہ ہو کر ظاہر ہوگئیں اور کام کرنے لگیں۔اور جب اِسْتَوٰیٰ عَلٰی سَرِیْرِ الْمُلْکِکہیں تو یہ معنے ہوںگے کہ وہ کسی جگہ کا مالک ہوگیا۔تو وہ کسی خاص تخت پر نہ بیٹھا ہو۔اور اسْتَوٰی عَلٰی الشَّیْء کے معنے ہوتے ہیںاِسْتَوْلٰی وَ ظَھَرَ وہ کسی چیز پر غالب آگیا (اقرب ) تفسیر۔فرماتا ہے کلام الٰہی کا نزول صفت رحمٰن کے ماتحت ہوتاہے۔یعنی خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی کمزوری دیکھ کر خود ہی ان کی ہدایت کے لئے جوش میں آتاہے۔اس آیت میں عیسائیت کا رد کیا گیا ہے کیونکہ عیسائیت کفارہ کی قائل ہے اور کفارہ اور رحمانیت اکٹھے نہیںہوسکتے۔کیونکہ کفارہ تبھی سچاہو سکتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ بغیر کسی کام کے کسی پر رحم نہ کرسکے لیکن رحمٰن کے معنے یہ ہیںکہ بغیر کسی سابقہ خدمت کے رحم کرنے ولی ہستی چنانچہ مسلمانوںکی سب کتابوں پر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھاہوتاہے۔لیکن عیسائی مصنف اپنی کتابوں سے پہلے اول تو کچھ لکھتے نہیں اور اگر بعض لوگ کچھ لکھتے بھی ہیں تو اپنی اپنی مرضی کے مطابق الفاظ منتخب کرکے لکھ لیتے ہیں۔چنانچہ بعض لوگ تو ’’بِسْمِ الْاَبِ وَالْاِبْنِ وَالرُّوْحِ ‘‘ لکھتے ہیں (ستم ہا مان منظومہ منشی کیدارنارتھ صاحب ) بعض ’’بِسْمِ اللہِ الْہَادِی الْجَوَّادِ‘‘ لکھ دیتے ہیں (شہادۃ القرآن) اور بعض یہ الفاظ لکھ دیتے ہیںکہ ’’خدا تعالیٰ کے نام پر جوہادی لاشریک ہے ‘‘ (بہت بیش قیمت عطر کی شیشی مصنفہ پادری ٹسڈل صاحب ) گویا اور الفاظ تو وہ استعمال کرتے ہیں لیکن رحمٰن کا لفظ چھوڑ دیتے