تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 484
پیدا کیا ہے یہاں تک کہ اس کے بالائی حصے نظر تک نہیںآتے وہ خدا اگر روحانی دنیا پیدا کرےگا تو اس کو بھی اسی شکل میں پیدا کرےگا یعنی ایسے ایسے بلند روحانی مقامات اس میںرکھے گا کہ وہ روحانی آسمان کہلانے کے مستحق ہوں گے۔اور جس طرح یہ جسمانی آسمان دنیا کی خدمت میںلگاہوا ہے اسی طر ح و ہ روحانی آسمان دنیا کی روحانی خدمت میںلگارہے گا۔اور لوگ اس کی مدد سے بلند سے بلند تر ہوتے چلے جائیں گے۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ خادم حضرت معین الدین صاحب چشتی ؒ نے فرمایا کہ ؎ دمبدم روح القدس اندر معینے می دمد من نمی گویم مگر من عیسیٰ ثانی شدم یعنی جبریل ؑ ہر گھڑی معین الدین چشتی ؒ کے کان میں بول رہا ہے پس گو میں منہ سے نہیںکہتامگر واقعہ یہی ہے کہ میں عیسیٰ ؑ کا نظیر ہوگیا ہوں حضرت عیسٰی علیہ السلام نے تو پادری اور پوپ پیدا کئے جن میںہزاروں عیوب پائے جاتے ہیںلیکن محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معین الدین صاحب چشتی ؒ جیسے وجود پیداکئے یعنی خود عیسیٰؑ پیدا کئے۔اسی طرح آپؐ کے ایک اور خادم یعنی بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیںکہ الا اےمنکر از شان محمدؐ۔ہم از نور نمایان محمدؐ کرامت گرچہ بے نام ونشاں است بیابنگر زغلمان محمدؐ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۴۹ ) یعنی اے و ہ شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپ کے چمکتے ہوئے انوار کا منکر ہے کان کھول کر سن لے کہ اگر چہ کرامت اس زمانہ میںہر جگہ مفقود ہے مگر تو آاور اسے محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں دیکھ لے۔اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى ۰۰۶ (وہ) رحمن (ہے جو)عرش پر مستحکم طورپر قائم ہوگیا ہے۔حلّ لُغَات۔العرش۔سَرِیْرُ الْمَلِکِ۔بادشاہ کا تخت۔العِزُّ۔عزت وغلبہ۔قِوَامُ الأَمْرِ معاملات اور امور کی درستی کاذریعہ اور مدار۔عَرْشٌ مِنَ الْبَیْتِ : سَقْفُہُ مکان کی چھت۔اَلْعَرْشُ۔الْمُلْکُ بادشاہت (اقرب ) مفردات میں ہے۔وسُمِّیَ مَجْلِسُ الْسُلْطَانِ عَرْشًا اِعْتَبَارًا بِعُلُوِّہٖ بادشاہ کے بیٹھنے کی جگہ یعنی تخت کو