تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 44
باطل ہو جاتی تھی اس لئے ہم نے جبر نہیں کیا۔یہ بھی اسی بات کی دلیل ہے کہ انسان کا نفس پاک پیدا کیا گیا ہے اور ہر انسان ہدایت کے ساتھ بھیجا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اپنی حماقت اور بیوقوفی سے اپنے اندر سے ہدایت نکال کر باہر پھینک دیتے ہیں فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو ہم ان کے نفس کی اندرونی ہدایت انہیں پھر واپس دے دیتے یعنی ان کو ہدایت رد کرنے کی توفیق نہ ملتی۔مگر جو لوگ اپنے دل کی ہدایت کو چھوڑ گئے ہمارا فیصلہ ان کے بارہ میں یہی ہے کہ ان کو ہم ان کے عمل کی سز ا دیتے ہیں ورنہ ہمارا دل یہی چاہتا تھا کہ ان کو بھی ہدایت دیتے چنانچہ اسی مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ یعنی ہم نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے دوزخ میں چلا جاتا ہے ورنہ ہماری طرف سے تو اس کی ہدایت کے سامان موجود تھے۔(۸)اسی طرح فرماتا ہے وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ (الشعراء :۹۱) ہم نے متقیوں کے لئے جنت کو قریب کر دیا ہے یعنی ایک طرف ان کی فطرت انہیں جنت کی طرف لے جاتی ہے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی مدد ان کو جنت کی طرف لے جاتی ہے اس طرح اندرونی اور بیرونی ہدایتیں ان کو جنت کی طرف راغب کرتی ہیں۔(۹)اسی طرح فرماتا ہے وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذاریات :۵۷) میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے عبد بنیں۔یعنی تمام بنی نوع انسان کے پیدا کرنے کی غرض یہ ہے کہ وہ عبد بنیں اور عبد کے متعلق دوسری جگہ قرآن کریم میں یہ تشریح آئی ہےکہ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً۔فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ (الفجر :۲۸ تا ۳۱) یعنی اے نفس مطمئنہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے پر راضی ہو گیا تو اپنے رب کی طرف ایسی حالت میں لوٹ آ کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے ’’تو اس سے راضی ہے اوروہ تجھ سے راضی ہے ‘‘کے معنے یہ ہیں کہ وہ پاک ہے اور اس کا دل اس قدر صفائی اختیار کر چکا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن گیا ہے فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ اس کے بعد فرماتا ہے جب یہ مقام کسی انسان کو میسر آ جائے کہ وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو جائے اور خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے تواس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کا عبد بن جاتا ہے گویا وہ جو فرمایا تھا کہمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۔میں نے جن اور انس کو صرف اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اس مقصد پیدائش کو وہ پالیتا ہے اور جو شخص اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کر لے لازماً وہ وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْکا مستحق ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کی پیدائش کی غرض یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عبد بن جائیں اور جو غرض پیدائش انسانی کی اللہ تعالیٰ قرار دے اسے کون باطل کر سکتا ہے۔پھر نہ صرف اس نے پیدائش انسانی کی