تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 45
یہ غرض قرار دی ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ انسانوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جن کو وہ خوشخبری دیتا ہے اور کہتا ہے کہ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً۔فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ۔یہاں ایک اور لطیف اشارہ بھی کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ نفس مطمئنہ کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً جن سے خدا راضی ہو گیا اور جو اپنے خدا سے راضی ہو گئے۔ادھر خدا تعالیٰ صحابہؓ کے متعلق فرماتا ہے رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْاعَنْہُ (التوبۃ :۱۰۰) اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گئے۔اب اس آیت کو سامنے رکھتے ہوئے يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً۔فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ پر غور کرو۔تو دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یٰٓا اَیَّتُھَا الْجَمَاعَۃُالصَّحَابَةُ اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ گویا قرآن کریم کی ان آیتوں نے شہادت دے دی کہ صحابہ کرامؓ اس مقام تک پہنچ چکے تھے جس پر پہنچ کر انسان خدا تعالیٰ کے عباد میں داخل ہو جاتا اور اس کی جنت کا وارث ہو کر اپنے مقصد حیات کو پالیتا ہے۔(۱۰)ایک اور آیت جو اس مضمون کو واضح کرتی ہے وہ قرآن کریم میں اسی واقعہ کے سلسلہ میں بیان ہوئی ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ گزرا۔اللہ تعالیٰ حضرت آدم کے متعلق فرماتا ہےلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (طٰہٰ :۱۱۶)یعنی حضرت آدم سے جو غلطی ہوئی تھی وہ اجتہادی تھی اس میں ان کے عزم کا کوئی دخل نہیں تھا۔غلطیاں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک اجتہادی غلطیاں اور ایک عزم کے ساتھ تعلق رکھنے والی غلطیاں آگے اجتہادی غلطیوں کی کئی قسمیں ہیں اور عزم والی غلطیوں کی بھی کئی قسمیں ہیں بہرحال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ غلطی اجتہادی قسم کی تھی عزم والی غلطیوں میں سے نہیں تھی۔ارادہ آدم نہیں تھا کہ غلطی کرے مگر ہو گئی اور یہ صاف بات ہے کہ گناہ کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک گناہ کا ظاہری حصہ ہوتا ہے اور ایک اس کا باطنی حصہ ہوتا ہے جو چیز انسان کو نجات سے محروم کرتی ہے وہ گناہ کا باطنی حصہ ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گناہ کی ظاہری سزا محض لوگوں کو مل جاتی ہے مگر نجات سے محروم کرنے والا صرف باطنی حصہ ہوتا ہے ظاہری نہیں۔مثلاً چوری ہے چوری کہتے ہیں کسی کا مال اٹھا کر لے جانے کو۔اب بیسیوں دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان غلطی سے دوسرے کی چیز اٹھا کر لے جاتا ہے مثلاً بعض لوگوں کے پیروں میں حس کم ہوتی ہے اور وہ دوسرے کی جوتی پہن کر چلے جاتے ہیں۔فرض کرو ایسا شخص پکڑا جائے۔اس کا مقدمہ عدالت میں جائے اور وہ قید ہو جائے تو گناہ کی ایک ظاہری سزا تو اسے مل جائے گی مگر اس کا دل سیاہ نہیں ہوگا کیونکہ اس نے جوتی ارادۃً نہیں اٹھائی تھی۔حیدر آباد کے جو نظام تھے ان کے ایک پھوپھی زاد بھائی کا بیٹا مجھے ملنے کے لئےقادیان آیا۔اس نے کسی