تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 466
وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اورکتنی ہی بستیاں ہیںجوان سے پہلے گذری ہیں (کہ ہم ان کوہلاک کرچکے ہیں)کیا تو ان میںسے کسی کو بھی کسی اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًاؒ۰۰۹۹ حس کے ذریعہ سے محسوس کرتاہے یا ان کی بھنک سنتاہے ؟ حلّ لُغَات۔تُحِسُّ۔حَسَّ الشَّیْءَ وَ بِالشَّیْءِ کے معنے ہوتے ہیںعَلِمَہٗ وَشَعَرَبِہٖ وَاَدْرَکَہُ یعنی کسی چیز کو جاننا اوراسے خوب اچھی طرح پہچاننا اور اَحَسَّ کے معنے ہوتے ہیں رَاٰی(اقرب) اس نے دیکھا اس جگہ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِنْ اَحَدٍ کے مقابلہ میں تَسْمَعُ لَھُمْ رِکْزًا کے الفاظ آئے ہیںجن سے ظاہر ہوتاہے کہ اس جگہ تُحِسُّ میںرؤیت والے معنوں کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔رکزاً رِکْزًاکے معنے ہیں اَلصَّوْتُ الْخَفِیُّ ایسی آواز جوبہت آہستہ ہو۔تفسیر۔فرماتا ہے عیسائیوں کا سارا غرور اس وجہ سے ہے کہ ان کو طاقت حاصل ہے شریعت کو لعنت قرار دینااور کفارہ وغیرہ مسائل کاایجاد کرنا سب غلط ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ عیاشیاں کرنا چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے قانون پر عمل کرنا نہیںچاہتے انہیں اپنی طاقتوں پر گھمنڈ ہے اور یہ لوگ خیال کرتے ہیںکہ ان پر کبھی زوال نہیں آسکتا حالانکہ ان کو مغرور نہیںہونا چاہیے ہم ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو تباہ کرچکے ہیں۔کیا آج ان میں سے کسی قوم کے نشان تمہیںنظر آتے ہیں۔یا ان کی ہلکی سی آواز بھی سنائی دیتی ہے ؟ یعنی آج ان کے نشان تک نظر نہیں آتے اُن کی تاریخ تک مشتبہ ہوگئی ہے اور ان کی آہٹ تک سنائی نہیںدیتی۔یعنی ان کے کام بالکل مخفی ہوگئے ہیں۔یہاں تک کہ ان کے وجود کے آثار تک مٹ گئے ہیں اگر پہلی قوموں کے لوگ اس طرح صفحہ ہستی سے ناپید ہوچکے ہیںتوان کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری طرف سے ان کے لئے اماالعذب اما الساعۃ کااعلان ہوچکا ہے۔جن کے لئے عذاب مقدر ہے وہ عذاب میںمبتلاہونے کے بعد خدائے واحد پر ایمان لائیں گے۔اورجن کے لئے عذاب مقدر نہیں بلکہ کامل تباہی مقدر ہے وہ اس طرح تباہ کر دئے جائیںگے کہ نہ وہ خود نظر آئیںگے اور نہ ان کے آثار تک دکھائی دیں گے۔ایمان غالب آجائےگا اور کفر دنیا سے ہمیشہ کے لئے مٹ جائے گا۔ڑ ڑ ڑ ڑ