تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 465
ظاہری حسن کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی محبت پیداہوتی ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے ظاہری حسن کے نتیجہ میں نہیں بلکہ بنی نوع انسان کی محبت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے اور پھر جو شخص خدا تعالیٰ کے عیال سے محبت کرتاہے۔خدا تعالیٰ بھی اس کے لئے اپنی محبت کو مخصوص کردیتاہے اوران چاروں امور کے نتیجہ میںکسی کفارہ کی ضرورت نہیںرہتی۔فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ پس ہم نے تو اس (قرآن )کو تیری زبان میںآسان کرکے اتاراہے تاکہ تو اس کے ذریعہ سے متقیوں کو قَوْمًا لُّدًّا۰۰۹۸ بشارت دے اور اس کے ذریعہ سے جھگڑا لو قوم کو ہوشیار کرے۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ شریعت لعنت نہیںہم نے اسے سلجھے ہوئے آسان الفاظ میں بیان کردیا ہے۔لعنت تب ہوتی جب یہ قابل عمل نہ ہوتی یا ہم کوئی ایسا حکم دیتے جس پر عمل کرنا لوگوں کے لئے نقصان دہ ہوتا۔اگر ہم نے ایسے ہی احکام دئے ہیں جن پر عمل ہو سکتاہے اورپھر ایسے احکام دیئے ہیںجن پر عمل کرنے میں لوگوں کا اپنا فائدہ ہے تو پھر شریعت لعنت کس طرح ہوئی ؟پسيَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ میں بتایا کہ ہم نے اسے سلجھے ہوئے آسان الفاظ میں بیان کردیا ہے جس کو مومن خوب سمجھ سکتے ہیں اور اسے قابل عمل یقین کرتے ہیں۔اگر قابل عمل نہ ہو تو تبشیر نہیںانذار ہوتاہے۔اور جب یہ بات ہے تو شریعت کو لعنت قرار دینا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ہاں جو جھگڑالو ہوں وہ بے شک نہیں مانتے۔مگر وہ تو شریعت کو لعنت کہو یا رحمت بہر حال نہیںمانیں گے۔اس میں یہ بتایا گیاہے کہ قرآن کریم ہر صحیح الفطرت انسان کے نزدیک قابل عمل کتاب ہے اور وہ عمل کرنے والوں کے لئے رحمت اور بشارت ہے۔لیکن جوشخص ارادہ کرلے کہ میںنے نہیںماننا اس کے لئے آسان یا مشکل کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔اس کے سامنے توجوچیز بھی رکھی جائے گی اس کا وہ انکار کردے گا۔کیونکہ اس کی فطرت میںمخالفت ہے۔لیکن جس کی فطرت میںکجی نہیں اورجو فطرت صحیحہ رکھنے والا انسان ہے وہ جانتاہے کہ شریعت خدا تعالیٰ کی رحمت ہے اور اس کے تمام احکام بنی نوع انسان کے فائدہ کےلئے ہیں۔اور خدا نے اس کو آسان اور قابل عمل بنایا ہے۔