تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 452
عام طور پر یہ خیال پایا جاتاہے کہ ہر مسلمان جس نے کلمہ پڑھ لیا اس کی قیامت کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیںگے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شفاعت ہے ہی گنہگاروں کے لئے اور وہ بڑے فخر سے کہا کرتے ہیں۔؎ کہ مستحق شفاعت گنہگار انند حالانکہ شفاعت کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مثیل ہونا ضروری ہے۔او ر وہی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا مستحق ہو سکتاہے جس نے پوری کوشش کی کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا بنے مگر بعض کوتاہیوں کی وجہ سے وہ اپنے اس ارادہ میں سوفی صدی کامیاب نہ ہوسکا اس کی اس کمی کو پوراکرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے حضور درخواست فرمائیں گے کہ خدایا اس شخص نے میرا مثیل بننے کے لئے پوری کوشش کی ہے مگر بعض کمزوریوں نے اسے اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہونے دیا۔میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ تو اس پر رحم فرما اور اس کی کوتاہیوں کو نظر انداز فرماتے ہوئے اسے بھی اپنے قرب سے حصہ دے۔پس شفاعت گنہگار کے لئے نہیں بلکہ اس کے لئے بھی قانون مقرر ہیں۔چنانچہ پہلا قانون یہی ہے کہ وہ شفاعت کرنے والے کامثیل ہو۔اگر وہ مثیل نہیں ہوگا تو اس کی شفاعت نہیں کی جائے گی۔دوسراقانون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو۔چنانچہ لَا يَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى (الانبیاء:۲۹) میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ شفاعت کامستحق بننے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے راضی ہو۔تیسرا قانون یہ ہے کہ شفاعت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا اذن حاصل ہو جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ(یونس:۴)کوئی شخص اس وقت تک شفیع نہیں بن سکتاجب تک شفاعت کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن نہ ہو اگر محض گناہ شفاعت کا موجب ہوتاجیسا کہ مسلمانوں میں عام طورپر خیال پایا جاتاہے تو شفاعت کے لفظ اور رضا اور اذن کی شرط کی کیا ضرورت تھی پھر تو کہنا چاہیے تھاکہ جو بھی گنہگارہوگا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن اس کی شفاعت فرما دیں گے۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مثیل نہ بن جائے اس وقت تک وہ آپ کی شفاعت کامستحق نہیں ہو سکتا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے تم بازار میں جائو اور دوکاندار سے کہو کہ مجھے اچھی قسم کے لنگڑے آم دو۔وہ چند اچھے آم نکال کرتمہیںدے دیتاہے اور تم انہیں ٹوکری میں ڈال لیتے ہو۔اب اگر تمہیں ضرورت زیادہ ہے اور ویسے آم تمہیں اورنہیںمل سکتے تو تم دوکاندار سے کہو گے کہ اس سے ملتے جلتے اگر کچھ چھوٹے سائز کے آم ہوں تو وہ بھی رکھ دو۔چنانچہ باوجود اس کے کہ لنگڑے آم کا سائز اور ہوگا اس وجہ سے کہ تمہیںضرورت