تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 453

ہوگی تم ذرا چھوٹے سائز کے آم بھی لے لو گے اور کہو گے کہ یہ آپس میں ملتے ہی ہیں اگر ان کا سائز کچھ چھوٹاہے تو کیا ہوا۔لیکن تم اس کی جگہ کوئی ٹوٹی ہوئی جوتی نہیںرکھوگے تم اس کی جگہ کیلے کا چھلکا نہیں لے آئو گے۔تم اس کی جگہ آم کی گٹھلیاں نہیںلے آئو گے تم بہر حال آم ہی لائو گے خواہ وہ سائیز میں کچھ کم ہی ہوں۔اسی طرح شفاعت میںبھی ایک مشابہت کا پایاجانا ضروری ہے۔شفاعت کے معنے یہ ہیں کہ ایسے انسان جو کوشش کریں گے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل ہو جائیں لیکن ان کی تکمیل روحانی میں کچھ کمی باقی رہ جائے گی قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے متعلق خدا تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے کہ خدایا انہوں نے میرامثیل بننے کی کوشش کی تھی لیکن ان کے اعمال میں کچھ کمی رہ گئی اب اس کمی کوتو اپنے فضل سے پورا فرمادے۔یہ نہیںکہ حرام کاری کررہے ہیں فساد کررہے ہیں۔قتل کررہے ہیں جھوٹے نعرے لگارہے ہیں ناکردہ گناہ لوگوں پر الزام لگارہے ہیں۔اور ساتھ ساتھ کہہ رہے ہیں ؎ کہ مستحق شفاعت گنہگار انند جوشخص پوری کوشش کرتاہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلے جو شخص پوری کوشش کرتاہے کہ وہ صحابہ ؓ کے نقش قدم پر چلے لیکن باوجود اس کوشش اور جدوجہد کے اس کے اعمال میں کچھ کمی باقی رہ جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس جدوجہد اور کوشش کا محمد رسول اللہ پر انکشاف فرمائے گا اور آپ اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے لئے رحم کی درخواست کریںگے اور فرمائیںگے کہ اس شخص نے کوشش تو کی تھی لیکن پیچھے رہ گیا۔اب تو اپنے فضل سے اس کی کمی کو پور افرمادے یہی لغت والے لکھتے ہیں کہ شفاعت کے لئے ہم مثل ہوناایک لازمی امر ہے۔کیونکہ ایک قسم کی جب دوچیزیں ہوں جن میں سے ایک ادنیٰ ہو اور ایک اعلیٰ ،توادنیٰ کو اعلیٰ سے ملانے کوشفاعت کہاجاتاہے۔یہی حقیقت اللہ تعالیٰ اس آیت میں بیان فرماتا ہے کہ لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا اس دن کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا۔سوائے اس کے جس نے خدائے رحمٰن سے عہد لے چھوڑاہے اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح ؑ جس کو عیسائی خدا کا بیٹاقرار د یتے ہیں اس کو شفاعت کا کوئی حق حاصل نہیںہوگا کیونکہ شفاعت کے ذکر کے ساتھ ہی یہ کہا گیاہے کہ خدا کابیٹاقرار دینابڑے گناہ کی بات ہے۔پس یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جس چیز کاخیال بھی خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو وہی چیز جس شخص کی طرف منسوب کی جارہی ہو اسے شفاعت کاحق حاصل ہو۔اس جگہ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کو خدا کی وحی نے بتایا کہ قیامت کے دن ان کی شفاعت قبول کی جائے گی۔