تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 419

دیکھیںگے ؟ عذاب دیکھیں گے یا ساعت دیکھیں گے بلکہ مراد یہ ہے کہ مختلف قوموںاورحکومتوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جوعذاب آیا کرتے ہیں وہ خدائی سنت کے مطابق سب کےلئے ایک وقت میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ پہلے ایک قوم پر عذاب آتاہے پھرکچھ وقفہ کے بعد دوسری قوم پر آتا ہے پھر کچھ وقفہ کے بعد تیسری قوم پر آتاہے اور بعض قومیں ایسی ہوتی ہیں جن پرعذاب نہیں بلکہ ساعت کی گھڑی آجاتی ہے اور یہ دونوں سلسلے پہلو بہ پہلو چلتے ہیں۔پچھلی لڑائی قیصر جرمنی کے لئے ساعت تھی۔مگر فرانس اور انگلستان کےلئے عذاب تھی۔یہ دونوںبچ گئے۔مگر کمزور بھی ہوگئے۔پس اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ کے یہ معنے نہیں کہ یا عذاب آئے گا اوریا پھر ساعت آئے گی بلکہ مراد یہ ہے کہ کسی قوم کےلئے ہمارا عذاب نازل ہوگا۔اور کسی قوم پر ساعت آجائے گی۔اوریہی دنیا میں ہوتا چلاآیا ہے۔پہلی جنگ عظیم ہوئی تو اس میں قیصر جرمنی ختم ہوگیا۔زار روس ختم ہوگیا۔بادشاہ ٹرکی ختم ہوگیا۔اور انگلستان ،فرانس اور بیلجئم پرعذاب آیا۔اسی طرح دوسری جنگ عظیم ہوئی تو اس میں ہٹلر اور مسولینی پر ساعت آگئی اور وہ تباہ ہوگئے۔لیکن فرانس اور انگلستان کے لئے عذاب آگیا۔اور وہ کمزور ہوگئے۔پس فرماتا ہے جس دن ہمارے وعدہ کی گھڑی آپہنچی اس دن کسی کےلئے عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا۔اور کسی کے لئے ساعت کاوعدہ پورا ہوجائے گا۔ساعت کے معنے ہمیشہ قیامت یا آخری فیصلہ کے ہوتے ہیں۔مگر یہاں قیامت مراد نہیں ہوسکتی۔کیونکہ وہ عذاب کےساتھ متبادل نہیں یہاں مراد قومی فیصلہ ہی ہے۔جو عذاب سے متبادل شئے ہے۔کیونکہ سب قوموں کاایک وقت میں فیصلہ نہیں ہوتا۔بعض ایک وقت میں عذاب دیکھیں گی اور بعض با لکل ختم ہوجائیں گی۔اس طرح باری باری سب کا فیصلہ ہوجائے گا۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ جیسے دنیا کی باقی سب قوموں سے ہوتا چلا آیاہے۔اسی طرح مسیحیوں سے بھی ہوگا اوربعض پر اس کی طرف سے عذاب نازل ہوگا اوربعض کی ساعت آجائے گی۔فَسَيَعْلَمُوْنَ۠ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا اس وقت ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کا مقام رہائش برا ہے۔اور کون اپنے لشکروں کے لحاظ سے زیادہ کمزور ہے۔یعنی اس وقت جب وہ مومنوں کے حق میں خدا تعالیٰ کی تائیدات دیکھیں گے تویہ اقرار کرنے پر مجبور ہوںگے کہ گو یہ کمزور تھے مگر ان میں ترقی کرنے کا مادہ پایا جاتا تھا۔اور گو ہم طاقتور تھے مگر ہمارے اندر ہلاکت اور بربادی کا مادہ پایا جاتاتھا۔ایک درخت ایسا ہوتاہے جو بظاہر بڑا پھیلاہوا نظر آتا ہے۔مگر وہ سو سال کا بڈھاہوتاہے۔اور اندر سے کھوکھلا ہوچکا ہوتاہے۔اس کے مقابلہ میں ایک گٹھلی ہوتی ہے جس میں سے ایک کونپل نکل رہی ہوتی ہے۔بظاہر وہ کونپل ایک حقیر سی چیز نظر آتی ہے اور درخت بڑا مضبوط دکھائی دیتاہے۔مگر ہرعقلمند جانتا ہے کہ اب آئندہ یہ کونپل ہی ترقی کرے گی۔کیونکہ ابھی سارا مستقبل اس کے سامنے