تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 414

میں سے ہر ایک کے پاس دس دس نوکر اور غلام ہیں۔گھروں میں دولت بھری ہوئی ہے۔عزت ہماری زیادہ ہے۔اختیارات ہمارے زیادہ ہیں۔تعداد ہماری زیادہ ہے۔تم ان باتوں میں ہمارا مقابلہ کر کے دیکھو۔آئندہ کے متعلق تم کیا وعدے کرتے ہو۔یہ دلیل یقیناًایسی ہے کہ اگر اس کا کوئی توڑ نہ ہوتو دوسرے کو ساکت اور لاجواب کرنے کے لئے بالکل کافی۔وہ کہتے ہیں تم اور باتوں کو جانے دو۔تم یہ بتاو کہہ تمہارا گھر اچھا ہے یا ہمارا ؟ تمہارے پاس سامان زیادہ اچھاہے یا ہمارے پاس ؟ معزز لوگ ہماری مجلسوں میں آتے ہیں یا تمہاری مجلسوں میں ؟مدد حاصل کرنےکے لئے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں یا تمہارے پاس۔اگر مال ہمارے پاس زیادہ ہے ،دولت ہمارے پاس زیادہ ہے اختیارات ہمارے پاس زیادہ ہیں ، تعداد میں ہم زیادہ ہیں ،معزز لوگ ہمارے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ،مدد حاصل کرنے کے لئے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں ، بڑے بڑے عہدے ہمارے پاس زیادہ ہیں ،ہر قسم کا سازو سامان ہمارے پاس موجود ہے۔تو ہم اچھے ہوئے یا تم اچھے ہوئے۔وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے زمانوںکے لوگوں کو ہلاک کیا ہے جوسامانوں کے لحاظ سے اور ظاہر ی وَّرِءْيًا۰۰۷۵ شان وشوکت کے لحاظ (ان لوگوں سے)اچھے تھے۔حلّ لُغَات۔اَلْاَثَاثُ اَلْاَثَاثُ کے معنے ہیں مَتَاعُ الْبَیْتِ گھر کاسامان۔وَقِیْلَ ھُوَ مَا یُتَّخَذُ لِلْاِسْتِعْمَالِ وَ الْمَتَاعُ لِلتِّجَارَۃِ اور بعض اہل زبان یہ کہتے ہیںکہ اَثَاثٌ اس سامان کو کہتے ہیں جو استعمال میں آتاہے وَقِیْلَ الْمَالُ کُلُّہُ اور بعض اہل زبان کہتے ہیںکہ سارے گھر کے سامان کو خواہ وہ کیسا ہو اثاث کہتے ہیں۔(اقرب) الرِّأْیُاَلرِّأْیُ کے معنے ہیںاَلْمَنْظِرُ۔منظر (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے ا گر تو دولت موجودہ کا تمہارے پاس ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آئندہ یہ حالات بدلیں گے نہیں تو پھر تو یہ دلیل ٹھیک ہے اور ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ چیزیں تمہارے پاس ہیں ،ہمارے پاس نہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ کبھی تم نے اس بات پر بھی غور کیا کہ ہم تم سے پہلے کتنے قرن