تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 413

کروں گا میں سمجھ گیا ہوںکہ یہ ایک بے فائدہ چیز ہے۔اس کادین اور روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اب بظاہر یہ ایک آیت تو تھی کیونکہ طاقت ظاہر ہوئی اور ایک چلتے ہوئے آدمی کو گرالیا مگر اس کا نیکی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کسی کو مکا مار کر گرالیا جائے۔کیو نکہ جس طرح مکا مارنے سے دوسرا گرجاتاہے اسی طرح ایک مسمر یزم کی مشق رکھنے والا آدمی دوسرے پر نظر ڈال کر اسے گراسکتاہے۔پس اس سے اتنا توثابت ہو جاتا ہے کہ جس نے نظر ڈالی ہے اس میں بڑی طاقت ہے مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ جس نے نظر سے دوسرے کو گرالیاہے اس کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے پس یہ ایک آیت تو تھی مگر بیّنہ نہیںتھی۔بیّنہ وہ آیت ہوتی ہے جو اپنی غرض بھی بیان کرتی ہے۔اور بتاتی ہے کہ اس نشان کا مقصد کیاہے۔زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا ہے کہ الٰہی معجزات خالی آیت نہیں ہوتے۔بلکہ ساتھ ہی وہ بیّنات بھی ہوتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان کی غرض کیا ہے۔ان سے کونسا فائدہ مدنظر ہے اور دنیا کو کیا نفع پہنچانا مقصود ہے مثلاًحضر ت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر اعلان فرمایا کہ پنجاب میں طاعون آئے گی (ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۶۱)۔اب یہ ایک آیت تو تھی مگر ساتھ ہی بینہ بھی تھی۔کیونکہ آپ نے تشریح کردی کہ چونکہ ان لوگوں نے الٰہی تعلیم کو چھوڑ کر دوزخ کی طرف اپنا قدم بڑھالیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ان پر دنیا میں ہی اپنا عذاب نازل کرے گا تاکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہواور وہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوسکیں۔اگر اس کی بجائے آپ صرف یہ کہہ دیتے کہ طاعون آئے گی جس سے دشمن کے آدمی بھی مر جائیںگے اور کچھ میرے آدمی بھی مریں گے تو یہ ایک آیت توہوتی مگر بیّنہ نہ ہوتی۔غرض ان دوالفاظ میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی معجزات کی حقیقت بیان کر دی ہے اور بتایا ہے کہ الٰہی آیات کسی اہم مقصد کےلئے ظاہر ہوتی ہیں اس مقصد کو خوب کھول کر بیان کرتی ہیںاور پھر وہ آیات موقع کے مناسب اور بر محل ہوتی ہیں۔اب بتاتاہے کہ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِيًّا جب ہماری آیات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیںتو کافرمومنوں سے کہتے ہیں کہ ’’ نونقد نہ تیرہ ادھار‘‘ تم خبریں دے رہے ہو ’’تیرہ ادھار ‘‘کی اور ہم خبریں دے رہے ہیں ’’نو نقد ‘‘کی تم کہتے ہو کہ اگر ہمارے پیچھے چلو گے تو تمہیں جنت ملے گی۔تمہیں بڑے بڑے انعامات ملیں گے۔اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوگی اور ہم کہتے ہیں کہ جوتیاں تمہاری ٹوٹی ہوئی ہیں۔کپڑے تمہارے پھٹے ہوئے ہیں کھانے کوتمہارے پاس کچھ نہیں اور ہم